ایچ آئی وی:متاثرین کی تعداد کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تینتیس ملین ہے نا کہ چالیس ملین جیسا کہ پہلے اندازہ تھا۔ سن دو ہزار سات کے اعداد و شمار میں کمی بنیادی طور پر ہندوستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے ترمیم شدہ تخمینوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ساتھ ہی ایچ آئی وی کے نئے معاملات اور ایڈز کے مریضوں کی موت کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر روز چھ ہزار آٹھ سو نئے مریضوں کا پتہ لگتا ہے اور پانچ ہزار سات سو اموات ہوتی ہیں۔ ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ مریض افریقہ میں ہیں اور ایشیا کے بعض علاقوں میں اس مرض کے پھیلنے کی رفتار سب سے تیز ہے۔
افریقہ میں اب سترہ لاکھ افراد سالانہ ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں جو گزشتہ برسوس کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ ہے۔ ایڈز سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر پائیوٹ کے مطابق نظر ثانی شدہ اعداد و شمار سے ’ ہمیں ایڈز کی وبا کی زیادہ صاف تصویر ملتی ہے جس سے نئے چیلنجز اور مواقع کا پتہ چلے گا‘۔ ’بلا شبہ ایڈز کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اب فائدہ نظر آنے لگاہے لیکن دنیا بھر میں اس مرض کا اثر کم کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان: ایڈز کا شدید خطرہ21 November, 2005 | نیٹ سائنس گیٹس: ایڈز ریسرچ کیلیئے 287 ملین20 July, 2006 | نیٹ سائنس خواتین کے لیے خاص قسم کا کنڈوم31 December, 2006 | نیٹ سائنس ’بھارت ایڈز کے پھیلاؤ کا مرکز‘01 December, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||