وبائی امراض کا خطرہ پہلے سے زیادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے عالمی ادارہِ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی امراض کا پھیلاؤ پہلے سے کئی زیادہ تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ سالانہ دو ارب دس کروڑ لوگ ہوائی سفر کرتے ہیں، جس سے ایڈز، سرس (سانس کی بیماری) اور مہلک ایبولا بخار کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق بیماریوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ وائرس سے متعلق معلومات کا تبادلہ بھی کیا جانا چاہیے تاکہ ویکسین بنانے میں مدد مل سکے۔ ’وگرنہ اس کے عالمی معیشت اور بین الاقوامی تحفظ پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔‘
محفوظ مستقبل کے عنوان کے تحت جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی بیماریاں جس رفتار سے سامنے آ رہی ہیں اس کی تاریخ میں پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انیس سو ستر سے اب تک انتالیس نئی بیماریاں سامنے آئی ہیں جبکہ پچھلے پانچ سالوں میں ڈبلیو ایچ او نے پولیو، ہیضہ اور برڈ فلو سمیت ایک ہزار ایک سو وبائی امراض کی نشاندہی کی ہے۔ ’یہ انتہائی بے وقوفی اور لاپروائی ہوگی اگر فرض کر لیا جائے کہ ایڈز، ایبولا یا سرس جیسی خطرناک کوئی اور بیماری اب سامنے نہیں آئے گی۔‘ ڈبلیو ایچ او کی سالانہ رپورٹ میں حکومتوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ وبائی امراض کے پھیلاؤ کو نہ چھپائیں کیونکہ ان کے پھوٹنے کے واقعات کی تقریباً نصف اطلاعات (عالمی ادارہِ صحت کو) ذرائع ابلاغ سے ملتی ہیں۔ |
اسی بارے میں جعلی ادویات، اقوام متحدہ کی تشویش01 March, 2007 | نیٹ سائنس ’برڈ فلو اب بھی ایک بڑا خطرہ‘05 January, 2007 | آس پاس برڈ فلو کے لیئےگلیکسو کی دوا26 July, 2006 | نیٹ سائنس برڈ فلو ہمیں کیسے متاثر کرتا ہے؟23 March, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||