برڈ فلو ہمیں کیسے متاثر کرتا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرندوں کے فلو پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ معلوم کرلیا ہے کہ پرندوں سے یہ وائرس کیسے داخل ہوتا ہے اور کیوں مہلک بن جاتا ہے۔ سائسندانوں کا کہنا ہے کہ پرندوں کے فلو کا وائرس انسانی جسم میں بہت مشکل سے داخل ہوتا ہے لیکن جب داخل ہوجاتا ہے تو پھر یہ انتہائی مہلک ثابت ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ عام فلو کے بر خلاف پرندوں کا فلو انسان کے پھیپھڑوں کے اندر گہرائی میں جاکر اپنا اثر دکھاتا ہے اس وجہ سے انسانی جسم کے ریشوں پر جلد اثر انداز نہیں ہوپاتا۔ تاہم سائنس دانوں کے مطابق اگر یہ وائرس انسانی جسم کے اندر داخل ہو جائے تو بہت تیزی کے ساتھ انسان کو نقصان پہنچانا شروع کردیتا ہے۔ لیکن سائنس دانوں کو ایک اندیشہ یہ کہ کہیں یہ وائرس باہر ہی باہر اپنی ہیئت نہ بدلنا شروع کردے۔ اگر ایسا ہوا تو زیادہ بڑی تعداد میں لوگ اس کا شکار ہونے لگیں گے۔
وزکانسن یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق کو جرنل نیچر میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ ایچ 5 این ون وائرس یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کچھ علاقوں میں پھیل چکا ہے اور اس وائرس سے دنیا میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دو ہزار تین میں اس وائرس کے دوبارہ سرگرم ہونے کے بعد سے اب تک ایک سو اسی افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فوری طور پر ایسا امکان نہیں کہ یہ وائرس انسانوں سے انسانوں کو لگ جائے۔ چونکہ یہ وائرس پھیپھڑوں میں بہت گہرائی میں جگہ بناتا ہے لہذا اس بات کا امکان کم ہوتا ہے کہ کھانسی یا چھینکوں سے یہ وائرس دوسرے انسانوں کو متاثر کرے۔ تاہم اگر یہ وائرس پھیپھڑوں میں اوپر کی طرف جگہ بنا لے تو پھر یہ انسانوں میں مہلک وبا بن کر پھیل سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کا دوسرے انسانوں سے اتفاقی رابطہ غالباً اس وائرس کو دوسرے کے جسم میں منتقل نہیں کر سکتا۔ | اسی بارے میں بھارتی کمپنی برڈ فلو کی دوا بنائے گی 24 December, 2005 | انڈیا 'برڈ فلو کی دوا نہ خریدیں'17 October, 2005 | آس پاس برڈ فلو: عطیات کیلیے عالمی اجلاس17 January, 2006 | نیٹ سائنس جرمنی میں برڈ فلو سے بلی ہلاک01 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||