جرمنی میں برڈ فلو سے بلی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں ایک گھریلو بلی برڈ فلو یا ایچ فائیو این ون وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئی ہے۔ اس طرح مذکورہ بلی یورپی یونین میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والا پہلا دودھ پلانے والا جانور ہے۔ یہ بلی اتوار کو جرمنی کے بالٹک جزیرے میں مردہ پائی گئی تھی جہاں ہزاروں کی تعداد میں پرندوں میں برڈ فلو کا وائرس پایا گیا ہے۔ سوئیڈن نے بھی ٹیسٹ کے بعد دو بطخوں میں ایچ فائیو این ون وائرس کے پائے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ دریں اثناء پیرس میں ہونے والے پچاس ملکوں کے جانوروں کے امراض کے ڈاکٹروں کےایک اہم اجلاس کے دوسرے دن اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ اس مہک وائرس سے کیسے نمٹا جائے۔ جرمنی کے دی فرائیڈ رایچ لوئفلرانسٹیٹیوٹ کی لیبارٹری میں بلی کی برڈفلو کے وائرس سے ہلاکت کی تصدیق کے بعد مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ آیا یہ وہی وائرس ہے جو پرندو ں میں پایا گیا ہے۔ لیبارٹری کے سربراہ تھامس میٹنلیٹر نے جزیرے کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ کچھ عرصے کے لیے اپنے پالتو جانوروں سے دور رہیں۔ بلیوں کے بارے میں خیال ہے کہ برڈ فلو کے وائرس کے شکار پرندوں کو کھانے سے اس مرض کے جراثیم ان کے جسم میں داخل ہو ئے ہیں۔گزشتہ سال ویتنام میں تین بلیاں اس مرض کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئی تھیں۔ اکتوبر دو ہزار چار میں تھائی لینڈ کے ایک نجی چڑیا گھر میں رکھے ٹائیگر اس مرض سے ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم ابھی تک اس مرض کے بلیوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں لیکن جرمنی میں بلی کی ہلاکت کے بعد مختلف انواع کے جانداروں میں اس مرض کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ منگل کو جرمن حکام نے جنوبی ریاست باویریا میں اس وائرس کے پائے جانے کی تصدیق کی ہے اس طرح جرمنی کی پانچ ریاستوں میں یہ مرض پھیل چکا ہے۔ |
اسی بارے میں برڈ فلو سے نمٹنے کا امریکی منصوبہ 02 November, 2005 | آس پاس ترکی میں برڈ فلو کے مزید مریض08 January, 2006 | آس پاس برڈ فلو وائرس انقرہ تک پہنچ گیا09 January, 2006 | آس پاس ترکی میں برڈ فلو وائرس سے افراتفری09 January, 2006 | آس پاس ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس جان لیوا برڈ فلو افریقہ میں بھی08 February, 2006 | آس پاس ’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘12 January, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||