BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جعلی ادویات، اقوام متحدہ کی تشویش
جعلی ادویات کا استعمال
رپورٹ کے مطابق کوریئر، عام ڈاک اور مقامی مارکیٹ جعلی ادویات کے کاروبار کے ذرائع ہیں۔
منشیات سے متعلق اقوام متحدہ کے نگران ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں خبر دار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں جعلی ادویات کی بھرمار ہے جن کے بعض اوقات تباہ کن نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

انسداد منشیات کے عالمی بورڈ کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی مارکیٹوں میں پچاس فیصد سے زیادہ ادویات جعلی ہوتی ہیں۔

رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جعلی ادویات کا کاروبار بہت جلد دنیا بھرمیں موجود غیر قانونی منشیات کے کاروبار سے بڑہ جائے گا۔

انسداد منشیات بورڈ کہنا ہے کہ حکومتوں کو ادویات کے متعلق موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانا چاہیے اور انٹرنیٹ کے ذریعے ادویات کے غیر قانونی کاروبار سے متعلق نئے قوانین متعارف کرانا چاہیں۔

رپوٹ کے مطابق کوریئر سروسز، عام ڈاک اور مقامی مارکیٹ جعلی ادویات کے کاروبار کے دیگر ذرائع ہیں۔

رپورٹ کا مزید کہنا ہے کہ جعلی ادویات کی مارکیٹ بڑی ’تیزی سے پھیل رہی ہے۔‘

بورڈ کے رپورٹ کے مطابق ’ان مارکیٹوں میں ایسی ادویات دستیاب ہیں جن کے لیبل پر ناکافی اور غلط تفصیلات درج ہوتےہیں۔ یہ ادویات غیر مؤثر، غیر معیاری اور بعض اوقات زہریلی ہوتی ہیں جس سے مریض کی صحت کو خطرہ ہوسکتا ہے۔‘

بورڈ کے صدر فلپ ایمافو کا کہنا ہے کہ ’اگر اس خوفناک عمل کو نہ روکاگیا تو یہ منشیات کی روک تھام کے سلسلے میں عالمی سطح پر ہونے والی کامیابیوں کوسخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

’علاج کی بجائے جعلی ادویات زندگیاں لے سکتی ہیں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کو ان رکن ممالک کی مدد کرنی چاہیئے جن کے پاس جعل سازوں اور سمگلروں سے نمٹنے کے لیے کافی وسائل نہیں ہیں۔

ویانا میں قائم نگران ادارے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کا غلط استعمال یورپ، افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے بعض علاقوں میں ہیروئن، کوکین اور ایکسٹیسی کے استعمال سے بھی بڑہ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات سے زیادہ غلط استعمال صرف چرس کا ہوتا ہے۔

بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ادویات کے غلط استعمال کے متعلق اعداد و شمار اکھٹا کرنا بہت مشکل کام تھا کیونکہ بعض ممالک کو پتہ ہی نہ تھا کہ کونسی دوائیوں کا غلط استعمال ہورہا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ’ قانونی طور پر دستیاب بعض نشہ آور ادویات اتنی طاقتور ہوتی ہیں جو غیر قانونی طور پر استعمال ہونے والے دوائیوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔‘

بی بی سی کے جل میکگورنگ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ادویات کی غیر منظم فروخت نے ترقی پذیر ممالک کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔

انکا کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق انٹر نیٹ پر نوے فیصد کاروبار کرنے والے ڈاکٹر کے نسخے کا تقاضہ کئے بغیر دوائیاں فروخت کر رہےہیں۔

رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران دنیا میں نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والا سب سے بڑا ہے جسکی وجہ اس ملک کا افغانستان کے قریب واقع ہونا ہے جہاں نشہ آور اشیاء کافی مقدار میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں
ایڈز: دوائیں اور سیاست
17 November, 2003 | نیٹ سائنس
دوائی ایک، قیمتیں مختلف
21 January, 2007 | پاکستان
جڑی بوٹیاں بھی ٹھیک ہیں
21 September, 2003 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد