ایڈز کی مریضہ کا سماجی بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چالیس سالہ جان بی بی صوبہ سندھ کے شہر شہداد کوٹ کے قریب اپنے چھوٹے سےگاؤں کی زندگی سےتنگ آ چکی ہیں۔ گاؤں والوں نے ان کا تب سے عملی طور پر سماجی بائیکاٹ کر رکھا ہے جب سے ان کے شوہر بقول جان بی بی ایڈز کی بیماری سے مرگئے ہیں۔ جان بی بی کے شوہر علی گل مگسی چوبیس جون دو ہزار پانچ کو فوت ہوگئے تھے۔ ان کی موت کی تشہیر نے جان بی بی کی عام دیہاتی عورت والی زندگی ایک دم بدل ڈالی اوران کی پہلے سے محدود زندگی میں بقول ان کے زہر ملا دیا۔ ان کا گھرانہ تین بھائیوں کے خاندان کے افراد پر مشتمل ایک ہی بڑے گھر میں رہنے والے تیس افراد پر مشتمل تھا۔مگر جان بی بی کے بلڈ رپورٹ ایچ آئی وی پازیٹو آنے کے بعد سارے خاندان کے افراد نے جان بی بی سے منہ موڑ لیا۔ اب وہ نہ تو میرے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھاتے ہیں نہ ہی مجھ سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ ان کی کوشش مجھ سے دور رہنے کی ہوتی ہے۔ میں بھی انسان ہوں۔ میری ساری زندگی اس گھر میں گزری ہے اب ان کا رویہ برداشت نہیں ہوتا۔ جان بی بی نے بی بی سی اردوکو روتے ہوئے بتایا۔ جان بی بی اپنے تین کمسن بیٹوں کے ہمراہ اپنے ہی گاؤں اور اپنے ہی گھر میں اجنبی کی سی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ جان بی بی کے سب سے بڑے بیٹے علی دوست نے جب اپنے چچاؤں اور ماموں کا ذکر کیا تو ان کی آنکھوں میں بے اختیار آنسوں آگئے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دو ماہ قبل ان کے چچا نے ان کی والدہ کو گھر سے منحوس کہہ کر نکال دیا تھا۔ علی دوست کے مطابق جب وہ اپنے ماموں کے گھر پہنچے تو ماموں نے ان کا سرد مہری سے استقبال کیا۔ ان کے ماموں نے ان کو مال مویشیوں کے لیے مخصوص جھونپڑی میں رہنے کو کہا اور اپنے بچوں اور عورتوں کو ہم سے دور رہنے کی ہدایات کی۔
جان بی بی کے مطابق وہ ایسی بیماری کا شکار ہو چکی ہیں جس کا انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ذکر تک نہیں سنا تھا۔ ایڈز کنٹرول صوبہ سندھ کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر ارشد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے محکمہ کی طرف سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں اٹھارہ سو اکتالیس افراد ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔ جن میں عورتوں کی تعداد بمشکل ایک فیصد ہوگی۔ انہوں نے بتا یا کہ سندھ میں ایڈز کے مریضوں میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں عرب ممالک سے ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی پازیٹو عورتوں میں اکثریت ان عورتوں کی ہے جن کو اپنے مرد سے ہی یہ مرض منتقل ہوتا ہے اور ان کے مرد عورتوں کو بیماری سے بے خبر رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد محمود کے مطابق لاڑکانہ میں ایچ آئی وی پازیٹو مریضوں کی تعداد سندھ کے دوسرے اضلاع سے زیادہ ہے۔ان کے مطابق لاڑکانہ میں ایک سو پچیس لوگ ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔ جبکہ غیر سرکاری سطع پر مریضوں کی تعداد ایک سو اسی کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے ایچ آئی وی پازیٹو لوگوں کی نگہداشت کی خاطر کیئر اینڈ سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ جس کے تحت ایچ آئی وی پازیٹو مریضوں کو ’اینٹی ریٹرو وایرل میڈیسن‘ دی جاتی ہے۔ پروگرام مینیجر ڈاکٹر ارشد محمود نے بڑے فخر سے بتایا کہ یہ ادوایات عام مارکیٹ میں تیس ہزار روپے سے کم مالیت کی نہیں۔ اور ان کا ادارہ سندھ میں ایسے ستاون مریضوں کو یہ ادوایات مفت فراہم کر رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔ کراچی کےدفتری کاغذات میں ان کے سامنے یہ ستاون نام ضرور ہوں گے مگر شہداد کوٹ کی جان بی بی کو ایسی ادوایات میسر نہیں جو ان کی زندگی پر امید بنا سکیں۔ جان بی بی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کئی سرکاری اور غیر سرکاری ڈاکٹر آتے رہے ہیں۔ ہر ایک آنے والا ان کو مالی امداد کی لالچ دیکر ان کا فوٹو کھینچ کر انٹرویو ریکارڈ کر کے واپس چلا جاتا ہے مگر کسی نے ان کو دوا دی ہے نہ مالی امداد۔ ایڈز کنٹرول پروگرام لاڑکانہ کے سابق فوکل پرسن ڈاکٹر فاروق رحمان سومرو کے مطابق جان بی بی کو این جی اوز کے نمائندوں نے اپنی فنڈنگ کی خاطر کئی جگہوں پر کیش کروایا ہے مگر جان بی بی کی مدد کسی نے نہیں کی۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام صوبہ بھر میں آٹھ این جی اوز کے تعاون سے ایڈز کے ’ہائی رسک‘ گروپوں میں آگہی کا کام کر رہی ہے۔ مگر شہداد کوٹ کے قریب جان بی بی ایڈز کنٹرول پروگرام کی آگہی کی برسوں سے منتظر ہے کہ کو ئی ایسا بھی پیغام لائے، جو بقول جان بی بی ،گاؤں والوں کو بتائے کہ ایڈز کامریض بھی انسان ہوتا ہے۔ کوئی خونخوار جانور نہیں جس کے قریب جانے سے نقصان ہوگا۔ جان بی بی جو اپنے عزیز واقارب میں ہی تنہا رہ گئی ہے وہ ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا تلخ تجربہ بتانے سے بھی اب گریزاں ہیں۔ ان کے مطابق اب تو ڈاکٹروں سے بھی ڈر لگ رہا کہ وہ میرے دیور اور سسر کے ساتھ مل کر مجھے زہر کا انجیکشن نہ دے دیں۔ جان بی بی کے شوہر علی گل مگسی عمارتیں تعمیر کرنے کے کاریگر تھے۔ وہ برسوں سے سعودی عرب میں کام کی وجہ سے مقیم تھا۔ فوت ہونے سے کوئی آٹھ برس قبل انہیں سعودی حکام نے ملک بدر کر دیا تھا۔ ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ کوئی حکومتی محکمہ ان کے پاس ادوایات لے کر نہیں آیا۔ انہوں شکایت کی کہ کیا وہ لوگ ہماری ماں کے پاگل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جان بی بی سے میری ملاقات کڑی دوپہر کو ہوئی۔ ان کے کم درختوں والے گاؤں سے واپسی پر میں یہی سوچ رہا تھا کہ کیا اگسٹ کی یہ دوپہر جان بی بی کی زندگی میں ہمیشہ کے لیے ٹہر جائے گی۔ | اسی بارے میں ایڈز سے بچاؤ کا عالمی منصوبہ01 December, 2003 | صفحۂ اول ’ایڈز والوں کو گولی مار دو‘17 November, 2003 | صفحۂ اول ایڈز کا علاج، بھارتی کمپنی کا کمال29 October, 2003 | صفحۂ اول ایڈز: افریقہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ21 September, 2003 | صفحۂ اول ایڈز سے متعلق نیا ادارہ17 September, 2003 | صفحۂ اول بھارت نے ایڈز کا ٹیکہ بنالیا26.07.2003 | صفحۂ اول ایڈز کی دوائیں بے اثر؟16.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||