BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 April, 2008, 01:37 GMT 06:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موگابے کو حکمران پارٹی کی حمایت
صدر موگابے
چوراسی برس کے صدر موگابے انیس سو اسی سے زمبابوے میں برسراقتدار ہیں۔
زمبابوے کی حکمران جماعت زانو پی ایف نے صدارتی الیکشن کے ممکنہ دوسرے مرحلے میں رابرٹ موگابے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے ایک اجلاس میں چھ روز پہلے ہونے والے الیکشن کے نتائج ، جن کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا، پر غور کیا۔

اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کا دعوٰی ہے کہ ان کے رہنما ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔

ابتدائی نتائج میں صدر موگابے کی جماعت کی شکست کی اطلاعات کے بعد قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ وہ انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہیں لیں گے۔

حکمران جماعت زانو پی ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سولہ نشستوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرے گی۔ اگر ان نشستوں پر ددوبارہ گنتی کے نتیجے میں زانو پی ایف کامیاب ہوگئی تو وہ پارلیمینٹ میں کھوئی ہوئی اکثریت واپس حاصل کرلے گی۔

اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس کے امیدوار مورگن چنگرائی نے پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں جو پچاس فیصد کی اس مقررہ حد سے اوپر ہیں جو دوسرے مرحلے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

ایک آزاد تخمینے کے مطابق مسٹر چنگرائی نے انچاس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ مسٹر موگابے نے بیالیس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔

ایم ڈی سی نے ہرارے ہائی کورٹ میں نتائج جاری کرنے کے لئے درخواست بھی دائر کردی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن دوسرے مرحلے میں جاتے ہیں ، جو اگلے تین ہفتوں میں ہوگا، تو تشدد اور مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شوری ہوسکتا ہے جو ماضی میں زمبابوے کے الیکشن کا خاصہ ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بائلز کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف کے ہارڈ لائینرز نے صدر موگابے کی حمایت کی ہے لیکن پارٹی میں ایسی بھی بہت سے رہنما ہیں جو لیڈرشپ میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا خیال ہے کہ صدر موگابے کی رہنمائی میں زمبابوے کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

چوراسی برس کے صدر موگابے انیس سو اسی میں سفید فاموں سے آزادی کے وقت قومی رہنما بن کر ابھرے تھے لیکن پچھلے چند برسوں سے زمبابوے میں دنیا کا سب سے زیادہ افراطِ زر، ایندھن اور خودرنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل سے لوگ بہت پریشان ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد