موگابے دوسرے مرحلے کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف کے ترجمان نے کہا ہے کہ موگابے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ نائب وزیرِ اطلاعات برائٹ مٹونگا کا کہنا ہے کہ اگر سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اگلے مرحلے میں جانا ضروری ہے تو صدر موگابے اس کے لیے تیار ہیں۔ زمبابوے کے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے تاہم حزب اختلاف نے انتخابات میں کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔ برائٹ مٹونگا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر نتائج کے بعد کسی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہ ہوئی تو قانون کے مطابق دوسرا مرحلہ منعقد کیا جاتا ہے۔ انتخابی قوانین کے مطابق جیتے والے صدارتی امیدوار کو پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ بدھ کو الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق موگابے کی جماعت کو عوامی مقبولیت کے اعتبار سے پینتالیس اعشاریہ نو جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج یا ڈی ایم سی کو بیالیس اعشاریہ آٹھ فی صد حمایت حاصل ہے۔ تاہم حتمی سرکاری نتائج کے مطابق ڈی ایم سی کو پارلیمان کے اندر زانو پی ایف پر برتری حاصل ہوگئی ہے۔ | اسی بارے میں زمبابوے: حزب اختلاف کی فتح03 April, 2008 | آس پاس موگابے سبکدوش نہیں ہو رہے02 April, 2008 | آس پاس افریقہ یورپ کا ’تاریخی باب شروع‘09 December, 2007 | آس پاس مخالفت کے باوجود زمبابوے ووٹ لےگیا12 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||