صدر موگابے کے مستقبل پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے کی حکمران جماعت زانو پی ایف نے صدر موگابے کے مستقبل اور صدارتی انتخابات پر اپنے ردِ عمل کا تعین کرنے کے لیے جمعہ کو ملاقات کر رہے ہیں۔ ابھی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور آئین کے مطابق زمبابوے کے انتخابی کمیشن کو صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان جمعہ تک کر دینا ہے۔ زانو پی ایف کے ایک سینئر رکن کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اس بات پر تیار ہے کہ صدر موگابے کو اپنے حریف اور حزبِ اختلاف کے امیدوار کے خلاف صدارتی انتخاب کے دوبارہ انعقاد میں حصہ لینا چاہیے۔ واضح رہے کے زمبابوے میں صدارتی امیدوار کو کامیابی کے لیے کل ڈالے گئے ووٹوں کے پچاس فی صد سے زائد ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں اور اگر پہلی بار میں کسی بھی امیدوار کو یہ تناسب حاصل نہیں ہوتا تو دو ہفتے کے بعد ایک بار پھر انتخابات کرائے جاتے ہیں۔ زانو پی ایف کی حریف ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ صدارت کے لیے اس کے امیدوار مورگن چینگرائی کو پچاس فی صد زائد اور 3ء50 ووٹ حاصل ہوئے ہیں اور اس تناسب کے بعد صدارتی انتخاب کے دوبارہ انعقاد کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم ڈی سی کے رہنماء مورگن چینگرائی کو انچاس فی صد اور صدر موگابے کو بیالیس فی صد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ لیکن حزب اختلاف کی جماعت ایم ڈی سی کے رہنماء مورگن چینگرائی کے ترجمان نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت بغیر چیلنج کے ووٹنگ کے دوسرے دور کی اجازت نہیں دے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ ثابت کرنے کے لیے تمام شواہد پیش کرنے ہوں گے کہ آخر ووٹنگ کے دوسرے دور کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اب واضح ہوگیا ہے کہ صدر موگابے اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ اگر صدارتی انتخاب دوسرے دور میں داخل ہوا تو تشدد اور مخالفین کو ڈرانے دھماکانے کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ہونے والے انتخابات میں ہوتا رہا ہے اس سے قبل حکمران جماعت کی طرف سے حزب اختلاف اور میڈیا کے خلاف کارروائیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے شہر کے مرکز میں واقع حزب اختلاف کی جماعت ایم ڈی سی کے دفاتر پر چھاپہ مارا۔ اُس وقت پارٹی کے اہلکار وہاں موجود نہیں تھے لیکن ان کے ایک ترجمان نے اِس کارروائی کو جمہوریت کے خلاف ایک چیلینج قرار دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایم ڈی سی کے رہنماء مورگن چینگرائی محفوظ ہیں۔ گزشتہ رات مسلح پولیس نے ہرارے کے ایک ہوٹل کو گھیرے میں لے کر دو غیر ملکی صحافیوں کو گرفتار کر لیا جن پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر بغیر اجازت کے زمبابوے میں کام کر رہے تھے۔ زمبابوے کے نائب وزیر اطلاعات برائیٹ موٹنگا نے کہا ہے پہلے مرحلے میں صدر موگابے کی شکست کی صورت میں بھی ان کے اپنے عہدے سے دستبردار ہوجانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ گزشتہ سنیچر کو ہونے والے انتخابات کے پانچ روز بعد جمعرات کو صدر موگابے پہلی بار ٹیلی ویژن پر نظر آئے۔ انہیں افریقی یونین کے انتخابی مبصر سے ملاقات کرتے دکھایا گیا۔ زمبابوے کے نائب وزیر اطلاعات برائیٹ موٹنگا نے کہا ہے کہ اگر ووٹنگ کے دوسرے دور کی ضرورت پڑی تو اُس میں صدر موگابے حصہ لینگے اور جیتیں گے۔ اطلاعات کے مطابق انچاس ارکان پر مشتمل مرکزی پالیسی ساز کمیٹی میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ حزب اختلاف کے رہنما مورگن چینگرائی کے انتخابات جیتنے کے دعوی کے بعد صدر موگابے کو دوسرے مرحلے پر لڑنا چاہیے یا نہیں۔ | اسی بارے میں زمبابوے: حزب اختلاف کی فتح03 April, 2008 | آس پاس موگابے دوسرے مرحلے کے لیے تیار03 April, 2008 | آس پاس موگابے سبکدوش نہیں ہو رہے02 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: موگابے کو ہرانے کا دعویٰ31 March, 2008 | آس پاس حزبِ اختلاف کا برتری کا دعوی30 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||