ڈالر میں تبدیلی لانے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ایک عدالت نے ڈالر کے حجم (سائز) اور بناوٹ میں تبدیلی لانے کا حکم دیا ہے کیونکہ اندھے لوگوں کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ مختلف مالیت کے نوٹوں میں فرق کر سکیں۔ امریکہ کی وفاقی اپیل عدالت نے حکم دیا ہے کہ ڈالر کے حجم اور بناوٹ کا ایک سا ہونا ناقابلِ قبول ہے۔ ایک کے مقابلے میں دو ججوں نے حکومت کے اکثریت فیصلے اس دعوے کو رد کر دیا گیا ہے کہ ڈالر کے نوٹ کا حجم بدلنا ایک بہت مہنگا کام ہے۔ خزانے کے محکمہ کو ان مشینوں کو دوبارہ بنانے پر تشویش تھی جن سے پیسے نکالے جاتے ہیں۔ جج جوڈتھ راجرز نے لکھا کہ ’کئی دوسرے کرنسی کے نظاموں نے بینائی سے مکمل محروم اور دیگر افراد کا خیال رکھا ہے، اور وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی کرنسی کیوں مختلف ہے۔‘ یہ مقدمہ امیریکن کونسل فار بلائنڈ نے دائر کیا تھا جس نے اس کے کئی حل بھی پیش کیے تھے جیسا کہ نوٹوں کے مختلف سائز اور ان پر ابھرے ہوئے نکتے یا پرنٹنگ۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر غور کر رہی ہے۔ اس مقدمے کے متعلق جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق امریکہ میں اس وقت نو لاکھ سینتیس ہزار افراد بینائی سے مکمل طور پر محروم ہیں جبکہ 2.4 ملین لوگ ایسے ہیں جو صحیح طور پر نہیں دیکھ سکتے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اخبار تک نہیں پڑھ سکتے۔ | اسی بارے میں نابینابہن بھائی پنڈی سےامریکہ تک29 April, 2007 | آس پاس ’سونا بیچ کر معیشت کو سہارا‘08 April, 2008 | آس پاس عالمی کساد بازاری کی پیش گوئی 21 April, 2008 | آس پاس امریکن ائرلائز کو مالی مشکلات 22 May, 2008 | آس پاس معیشت کو سہارا چاہیے: بش19 January, 2008 | آس پاس ’امریکہ کی سلطنت رو بہ زوال‘ 20 November, 2007 | آس پاس امریکہ:مکانوں کے قرضے بحران جاری08 September, 2007 | آس پاس اثاثوں کی بحالی، امریکی اقدامات15 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||