عالمی کساد بازاری کی پیش گوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنگا پور کی انویسٹمنٹ کمپنی جی آئی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہیں کیے گئے تو دنیا بدترین کساد بازاری کی سمت بڑھ رہی ہے جو پچھلے تیس برسوں میں اب تک کی بد ترین کساد بازاری ہوگی۔ کمپنی کے ڈپٹی چیئرمین ٹونی ٹین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پیسے کی دستیابی کم ہونے کے سبب دنیا بھر میں انتہائی غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ یہ کمپنی سنگا پور کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے بڑے ذخائر کا انتظام چلانے کے لیے تشکیل کی گئی تھی۔ حال ہی میں اس کمپنی نے بحران سے دو چار کئی مغربی بینکوں کو خریدنے میں اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں جن میں یو بی ایس اور سٹی گروپ شامل ہیں۔ مسٹر ٹین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ہم ایسی کساد بازاری کا شکار ہوں جو گزشتہ تیس برسوں میں اب تک کی سب سے بڑی اورطویل کساد بازاری ہو۔ یو بی ایس اور سٹی گروپ کو خریدنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ’جب بازار میں ٹھہراؤ پیدا ہوگا اور اقتصادی صورتِ حال معمول پر آجائے گی تو اس سے ہمیں بہت مالی فائدہ ہوگا‘۔ سے جی آئی سی کا کہنا ہے کہ سو بلین ڈالر سے زائد کے اثاثوں کا انتظام چلاتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کمپنی کے اثاثوں کی مالیت تین سو بلین ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے جس سے یہ ادارہ دنیا کے سب سے آزاد مالی اداروں میں سے ایک ہے | اسی بارے میں خوراک کے عالمی بحران کا خطرہ 13 April, 2008 | آس پاس ’لاکھوں افراد کی فاقہ کشی کا خطرہ‘13 April, 2008 | آس پاس سرحد معیشت: تصویر کا دوسرا رُخ07 September, 2007 | پاکستان یورپ:چیزیں زیادہ لیکن لوگ ناخوش 16 July, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||