یورپ:چیزیں زیادہ لیکن لوگ ناخوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ چالیس برسوں میں یورپ میں ایندھن کے بڑھتے ہوئے استعمال اور کاربن کے اخراج میں واضح اضافے کے باوجود لوگوں کی خوشیوں میں بہت کم اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال سے سوال اٹھتا ہے کہ زیادہ چیزیں استعمال کرنے اور انسانی خوشی کے درمیان کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ نیو اکنامکس فاؤنڈیشن نامی تنظیم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی خوشی کے دو اہم محرک معاشرتی تفریق میں کمی اور قدرتی ذرائع کا استعمال ہیں۔ بی بی سی کے ایک حالیہ سروے میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ فی کس دولت میں تین گنا اضافے کے باوجود برطانوی لوگ انیس سو پچاس کے عشرے میں آج سے زیادہ خوش تھے۔ تنظیم نے اپنی اس سال کی رپورٹ میں آئس لینڈ کو یورپ کا خوش ترین ملک قرار دیا ہے۔ تنظیم اپنی فہرست بناتے وقت مختلف ممالک کی درجہ بندی جس معیار پر کرتی ہے اسے ہیپی پلینٹ انڈیکس (Happy Planet Index) کا نام دیا گیا ہے۔ اس معیار کے تحت کسی بھی ملک کو اسکے لوگوں کے پُرمسرت زندگی گزارنے اور ان کی دراز عمری پر نمبر دیے جاتے ہیں جبکہ فی کس کاربن کے اخراج کی بنیاد پر ان کے نمبر کاٹے جاتے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے بانی نِک مارکس کا کہنا ہے کہ ’ فہرست میں آئس لینڈ کا اول آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر ہم اپنے قدرتی وسائل کے اندر رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خوش نہیں ہوتے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ مختلف یورپی ممالک کی اس درجہ بندی سے ہم اچھی باتیں سیکھ سکتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم یہ باتیں اپنا کر کاربن کے اخراج میں زبردست کمی اور اپنی خوشیوں میں بہت اضافہ کر سکتے ہیں۔‘ رپورٹ میں شائع کی گئی فہرست کے مطابق یورپ میں جن ممالک میں فی کس کاربن کی مقدار سب سے کم ہے ایسے ممالک وہ ہیں جو سویڈن اور آئیس لینڈ کی طرح نہ ختم ہونے والے قدرتی وسائل (renewable reources) استعمال کرتے ہیں یا مشرقی یورپ کے وہ ممالک ہیں جو سابق سویت یونین میں شامل تھے، مثلاً لیٹویا اور رومانیہ۔ تنظیم کے اعداد وشمار کے مطابق اگر پورے براعظم یورپ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں انیس سو اکسٹھ سے کاربن کی فی کس پیداوار میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے، اوسط عمر میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن لوگوں کی خوشی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس درجہ بندی کے مطابق برطانیہ یورپ کا فی کس کاربن پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے جب کہ خوش زندگی کے لحاظ سے برطانیہ کا نمبر یورپی ممالک کے درمیان میں آتا ہے۔ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اینڈریوز سِمز کا کہنا تھا ’ یورپ کے وہ ممالک جنہوں نے معاشی ترقی کے لیے برطانیہ کی طرح کا کاروباری یا تجارتی نظام (market-based economy) اپنایا وہاں کاربن کا اخراج سب سے زیادہ ہے اور وہاں کے لوگ سب سے زیادہ ناخوش پائے گئے۔
ان کا کہنا تھا ’ اس فہرست میں پیش کی جانے والی معلومات سے سوال اٹھتا ہے کہ آخر اچھی معیشت اور انیدھن کے زیادہ اخراج کا حاصل کیا ہے۔ اس بات کا کیا فائدہ کہ ہم زیادہ سے زیادہ اشیاء بنانے، انہیں خریدنے اور استعمال کرنے کے لیے قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کریں لیکن اس سے ہماری زندگی میں کوئی خاص بہتری نہ آئے اور ہم زیادہ خوش نہ ہوں۔‘ اپنی تحقیق کی روشنی میں تنظیم نے یورپ کے ان ممالک کو جن کے ہاں فی کس کاربن اخراج کم ہے اور وہاں کے لوگ زیادہ خوش زندگی گزارنا چاتے ہیں مندرجہ ذیل تجاویز دی ہیں:
|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||