 | | | کمپیوٹرز عالمی حدت میں اسی قدر اضافہ کرتے ہیں جتنا ہوائی سفر کی صنعت |
برطانیہ میں ایک نئی سرکاری ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس کا مقصد کمپیوٹروں کی پیداوار، ان کو چلانے اور پھر انہیں ضائع کرنے کے دوران پیدا ہونی والی کاربن ڈائی آکسائڈ میں کمی لانا ہے۔ کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دیگر مشینوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عالمی حدت میں اسی قدر اضافہ کر رہی ہیں جتنا کہ ہوائی سفر کی صنعت کر رہی ہے۔ ٹاسک فورس ’گرین کمپیوٹرز‘ کے ایک ایسے تجرباتی پروگرام کی نگرانی کرے گی جس کے تحت ہر ذاتی کمپیوٹر یا پی سی اٹھانوے فیصد کم توانائی خرچ کرےگا۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں آئی ٹی کے آلات ہر سال تین کروڑ پچاس لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔ ’گرین پی سی‘ کا نام دی جانے والی اس سروس میں ہوتا یہ ہے کہ کمپیوٹر کے دفتری استعمال، ای میل اور انٹرنیٹ کی سروس کے لیے ذاتی کمپیوٹر یا پی سی کی بجائے ایک بڑے ڈیٹا سینٹرمیں پڑے کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسے ڈیٹا سینٹر کم توانئی پر چلیں گے اور ان تک رسائی ڈاتی کمپیوٹر کی بجائے ایک ڈیسک ٹاپ باکس کے ذریعے ہو گی۔ گرین کمپیوٹرز کے اس پروگرام کے تحت کمپیوٹر بنانے میں خرچ ہونے والی تونائی میں بھی پچھہتر فیصد تک بچت ہوگی۔ بلدیاتی حکومت کے وزیر فِل ولاس کا کہنا تھا کہ ’سائبر وارمنگ یا کمپیوٹروں سے پیدا ہونے والی حدت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اسی لیے ہم نے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ یہ ٹاسک فورس دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی پہلی ٹاسک فورس ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ سائبر وارمنگ کے مسئلے کو کس قدر سنجیدہ سمجھتا ہے۔‘ سرکاری ادروں کو عوام کے اشتراک سے چلنے والی اس ٹاسک فورس کا مرکز مانچسٹر شہر کی کونسل ہو گی۔ مانچسٹرسِٹی کونسل کے کونسلر رچرڈ لیزے نے اس سلسلے میں کہا کہ ’گرین پی سی سروس کے عنوان سے شروع کی جانے والی یہ سروس دراصل ان تجاویز کا حصہ ہے جن کا مقصد عالمی حدت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی نوعیت کے اقدامات کرنا ہے۔ ہمارے اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ ہم ایسے حل تجویز نہیں کر رہے جو عام لوگوں کے بس میں نہ ہوں۔‘ اس منصوبے کے تجرباتی مرحلے کا آغاز اگلے سال کےابتدائی مہنیوں میں ہوگا جبکہ سنہ دو ہزار نو میں یہ سروس استعمال کے لیے تیار ہو جائے گی۔
|