گرین ہاؤس گیس: اخراج کے نئے اہداف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے صنعتی ملکوں پر زور دیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والی گیسوں کے اخراج کے لیے نئے اہداف مقرر کیے جائیں۔ واشنگٹن میں تقریر کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ وہ آب ہوا میں تبدیلی کے بارے میں فکر مند ہیں اور امریکہ، چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ بھی اس سلسلے میں مذاکرات کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ اورگرین ہاؤس گیس خارج کرنے والے چودہ دوسرے بڑے ملکوں کو دو ہزار آٹھ کے آخر تک کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کے لیے نئے اہداف مقرر کرنے پر آمادہ کر لیں گے۔ صدر بش اگلے شروع ہونے والے جی ایٹ کے اجلاس سے قبل گفتگو کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ اجلاس میں جرمنی گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے صدر بش کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کے لیے مشترکہ میدانِ عمل ہے۔ بی بی سی کے تجزیہ نگار روجر ہرابین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی تقریر میں اس بات کی تفصیل نہیں تھی اور وائٹ ہاؤس میں ان کے معاونین نے واضح کیا ہے کہ صدر امریکی صنعتوں سے خارج ہونے والے دھویں میں کمی کے مطالبے اور عالمی سطح پر کاربن کی تجارت کے نظام کی مخالفت کریں گے۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ جی ایٹ سے ہٹ کر آب و ہوا میں تبدیلی کے لیے مذاکرات کا خاکہ تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جرمن سربراہ مملکت کا کہنا ہے کہ اس صدی کے خاتمے تک زمین کے درجہ حرارت میں ہونے والے اضافہ کو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کیا جانا چاہئے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر گیسیوں کے اخراج میں انیس سو نوے میں ہونے والے صنعتی اخراج کے مقابلے میں پچاس فی صد کمی کی جائے اور وہ بھی سن دو ہزار پچاس سے پہلے۔ امریکہ نے کیوٹو پرٹوکول پر جو دوہزار بارہ تک گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق ہے دستخط نہیں کیے ہیں۔ صدر بش نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ عالمی حدت میں اضافہ پر قابو پانے کے لیے نئی ٹکنالجی کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے میں امریکہ رہبری کرے گا اور دنیا ایک ایسی بڑی پیش رفت کے دروازے پر ہے جو بقائے ماحول کے لیے نہایت خوش آئند ہوگی۔ |
اسی بارے میں ترقی یافتہ ممالک، ماحول پرعدم اتفاق26 May, 2007 | نیٹ سائنس ’ماحول کے بچاؤ کیلیے معاہدہ ہوگیا‘04 May, 2007 | آس پاس کروڑوں غریب لوگ متاثر ہوں گے06 April, 2007 | نیٹ سائنس عالمی حدت : سڈنی میں ’بلیک آؤٹ‘31 March, 2007 | آس پاس ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق16 February, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||