’سونا بیچ کر معیشت کو سہارا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی مسائل پر قابو پانے کے لیے سونا بیچنے کی تجویز پیش کی ہے۔ آئی ایم ایف نے امید ظاہر کی کہ اپنے بارہ فیصد سونے کے ذخائر یعنی کہ تیرہ ملین اونس کی فروخت سے چھ بلین ڈالر کی رقم مل جائے گی۔ مشکلات میں گھری معیشت کی مدد کرنے میں آئی ایم ایف کا کردار کافی حد تک کم ہو گیا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے آئی ایم ایف کو پیسے حاصل کرنے کے لیے نئے طریقے اپنانے پڑیں گے۔ سونے کی قیمت میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے اور تاجر اپنی رقم کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سونے کے بازار میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ سونے کی فروخت امریکی کانگریس کی منظوری اور اس مالیاتی ادارے کے ایک سو پچاسی ممبران کی منظوری پر منحصر ہے۔ آئی ایم ایف کے سربراہ ڈومینیک سٹراس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مشکل مگر ضروری ہے اور اس فیصلے سےمالیاتی ادارے کی صورتحال مستحکم ہو جائے گی۔ آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کردہ فروخت کئی سالوں پر محیط کی جائے گی تاکہ بازار پر کوئی اثر نہ پڑے۔ سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ مارچ میں ہوا جب اس کی قیمت ہزار ڈالر فی اونس ہو گئی۔ سونے کی مجوزہ فروخت سے امریکی حکومت اور کارپوریٹ بونڈ خریدے جائیں گے تا کہ اگلے تین سالوں میں متوقع چار سو ملین ڈالر کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ آئی ایم ایف پچھلے ساٹھ سالوں سے معاشی مشکلات میں گھرے ممالک کی مالی امداد کرتی رہی ہے اور اس کا کردار عالمی معیشت کی نگران کی سی تھی۔ تاہم پچھلی چند دہائیوں سے ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر ایشیائی ممالک نے آئیندہ ممکنہ مشکلات سے بچاؤ کے لیے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کر لیا ہے۔ | اسی بارے میں ایشیائی سٹاک مارکیٹ میں بہتری23 January, 2008 | آس پاس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے: آئی ایم ایف11 August, 2007 | آس پاس براؤن امریکہ پر اثر انداز ہونگے؟28 June, 2007 | آس پاس دوست کی مدد کر کےغلطی کی:ولفووٹز13 April, 2007 | آس پاس امن فوج،سونے کی سمگلنگ میں مدد11 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||