امن فوج،سونے کی سمگلنگ میں مدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی نے اقوام متحدہ کی ایک ایسی خفیہ رپورٹ حاصل کی ہے جس میں کانگو میں پاکستانی امن فوج پر لگے سونے کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیق شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی افسروں نے کانگو میں سونے کے سمگلروں کی حفاظت کی، ان کی مہمان نوازی کی اور انہیں خوراک فراہم کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیس کو اسلام آباد میں حکام کے حوالے کیا جائے تاکہ امن فوج کے دستے کے خلاف مناسب اقدامات کیئے جا سکیں۔ اٹھارہ ماہ کی تحقیقات کے بعد جولائی میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں صرف ایک شخص کو ملوث ٹھہرایا گیا تھا۔ اس سارے معاملے میں جو پاکستانی بٹالین تقتیش کا مرکز ہے وہ 2005 میں ملک کے شمال مشرقی شہر مونگوالو میں تعینات تھی۔ بٹالین نے اس علاقے میں امن قائم کرنے میں مدد کی تھی جو پہلے نسلی گروپوں کے درمیان شدید لڑائی کا شکار تھا۔ بعض گواہوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی افسر ایف این آئی ملیشیا کے کمانڈروں کو سونے کے عوض ہتھیار بھی مہیا کرتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا ثبوت تو شامل نہیں ہے کہ پاکستانیوں نے مقامی ملیشیا کو ہتھیار فراہم کیئے لیکن سونے کی سمگلنگ کےاس نیٹورک کے شواہد کا تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے جس میں پاکستانی امن فوج، کونگو کی آرمی کے افسر اور بھارتی تاجروں کو ملوث بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں گواہوں کا کہنا ہے کہ بھارتی تاجر مونگوالو میں پاکستانی دستے کے کیمپ پر موجود تھے۔ بعض گواہوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب سونے کے تاجر ہوائی اڈے پہنچے تو انہیں پاکستانیوں نے اس طرح خوش آمدید کہا جیسا کہ کوئی پرانے دوست ہوں اور پھر انہیں ہوئی اڈے سے اقوام متحدہ کی گاڑیوں میں لے جایا گیا۔ اسمگلروں کی پرواز کے بارے میں کوئی تفصیلات سول ائرکرافٹ رجسٹر میں موجود نہیں ہیں اور تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’ سونا خریدنے کے مقصد سے آنے والے گروہ کی منگوبالا آمد کو چھپانے کے لیے یہ دانستہ طور پر کیا گیا ہے‘۔ علاقے میں ایف این آئی ملیشیا کو ہتھیار بیچنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کو اقوام متحدہ کے اہلکار اور مقامی لوگوں کی شہادتیں تو مل گئیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں کوئی واضح ثبوت نہیں مل سکا۔ رپورٹ میں ثبوت فراہم کرنے والے کونگو کی آرمی کے اس افسر کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جس کا اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے انٹرویو کیا تھا اور جس نے بعد میں بی بی سی سے بھی بات کی تھی۔ اس افسر کا کہنا تھا کہ اس نے ایسے شواہد دیکھے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی امن فوج کے اہلکار مقامی ملیشیا کو مسلح کر رہے تھے۔
ڈراگن اور کنگفو کے ناموں سے پہچانے جانے والے ان سابقہ ملیشیا لیڈروں کے خط کا بھی اس رپورٹ میں تذکرہ نہیں کیا گیا جس میں انہوں نے پاکستانی امن فوج سے سونے کی کانوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہتھیاروں کی وصولی کو تسلیم کیا تھا۔ اس رپورٹ سے جہاں کئی سوال حل ہوتے ہیں تو کئی نئے سوال اٹھتے بھی ہیں۔ اس سارے معاملے میں اب تک کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ |
اسی بارے میں امن فوج: میعار بہتر کرنے کی ضرورت29 July, 2007 | آس پاس پاکستانی امن فوج کی ’سمگلنگ‘23 May, 2007 | آس پاس کانگو امن مشن، بھارتی فوجی ہلاک27 December, 2005 | آس پاس امن افواج کی جنسی زیادتیاں08 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||