BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 August, 2007, 21:49 GMT 02:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوامِ متحدہ کی تحقیقات کی شفافیت پر شبہ

کانگو میں پاکستانی فوجی(فائل فوٹو)
’سونے کی سمگلنگ میں مدد صرف فرد واحد کی بس کی بات نہیں تھی‘
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے افریقی ملک کانگو میں اقوام متحدہ تلے تعینات پاکستان کی امن فوج کی طرف سے سونے کی سمگلنگ اور ہتھیاروں کے کاروبار میں ملوث ہونے کے خلاف تحقیقات میں فقط ایک پاکستانی فوجی عملدار کو جوابدار ٹھہرائے جانے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کی شفافیت پر سوال اٹھایا ہے۔

یہ بات ہیومن رائٹس واچ کے سربراہ کینتھ روتھ نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں امن افواج کے شعبۂ آپریشنز کی سربراہ انڈر سیکرٹری جین میری گوہینو اور دیگر سینئر حکام کو اپنے ایک خط میں کہی ہے۔

ادھر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اقوامِ متحدہ میں اندرونی نگہداشت کے دفتر کی دو سو صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ کی تفاصیل اپنے ہفتے کے شمارے میں شائع کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کانگو میں اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے امن فوج کے طور پر فرائض سرانجام دینے والی پاکستانی فوج کے دستوں نے سونے کے سمگلروں کی مدد کی تھی۔

رپورٹ میں اقوامِ متحدہ نے پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کانگو میں پاکستانی امن فوج کے طور پر تعینات دستے کے سربراہ میجر جاوید کے خلاف کارروائی کرے جبکہ رپورٹ میں پاکستان فوج کے ایک اور میجر علی زمان کو مبینہ طور مشرقی کانگو میں جنگی جرائم میں ملوث خانگی ملیشیا کو ہتھیار فراہم کرنے اور سرکاری فوجوں کے ان پر چھاپوں سے پہلے اطلاعات پہنچانے کا وعدہ کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے سربراہ کینتھ روتھ نے اپنے خط میں اقوم متحدہ میں کے بڑے منصب داروں سے اقوام متحدہ کے آفس آف انٹرنل اوور سائٹ سروسز کی طرف سے کانگو میں تعینات پاکستانی امن فوج کے دستوں پر سونے کی سمگلنگ کے عوض جنگی جرائم میں ملوث نجی ملیشیا کو ہتھیاروں کی فراہمی جیسے الزامات کی تحقیقات کے نتائج اور ان کی محدودیت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس رپورٹ کے مطابق پاکستانی امن دستوں کے مبینہ جرائم سنگین قسم کے ہیں

انہوں نے لکھا ہے کہ رپورٹ میں محض چند افراد کو ہی ذمہ دار ٹھہرانے پر انہیں سخت تشویش ہے کیونکہ ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے کی گئی تحققیقات میں کانگو کے فوجی افسران کا ایک گروہ، کینیائی تاجر اور پاکستانی امن فوج کے اہلکار و عملدار اس کام ملوث تھے جنہوں نے کانگو کے مشرقی علاقے اٹوری سے لاکھوں ڈالر کے سونے کی سمگلنگ کی۔ ہیومن رائٹس واچ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک علیحدہ تحقیقات میں بی بی سی بھی ایک ایسے ہی نتیجوں پر پہنچی تھی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ہیومن رائیٹس واچ کی تحقیقات کے مطابق، دو ہزار پانچ کے آخر میں سونے کی سمگلنگ میں ملوث اس گروہ نے کم از کم اپنے دو دھندوں میں اقوام متحدہ کی ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی، رہائش اور ہوائي جہازوں کی سہولیات استعمال کی تھیں۔

کینتھ روتھ نے اقوام متحدہ سے کہا ہے سونے کی اسمگلنگ میں مدد صرف پاکستانی امن دستوں کے فرد واحد کی بس کی بات نہیں تھی اور ہیومن رائٹس رپورٹ کے مطابق، پاکستانی امن دستوں کے مبینہ جرائم سنگین قسم کے ہیں اور یہ جرائم کانگو کے اس حصے میں ہوئے جہاں ملیشییا گروپوں کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کیے گئے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے ایسے الزمات کی تردید کی تھی لیکن واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اب انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس کی تحققیقات کرے گا۔ ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں پوری کرنے کو کہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے افریقہ میں اقوام متحدہ کو پاکستان کی طرف سے امن فوج کے لیے فوجیوں کی فراہمی پر کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے دس ہزار فوجیوں کی فراہمی پر پاکستان کو قدر سے دیکھنا قابل فہم ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے اقوام متحدہ ایسی فوج کے دستوں کی فراہمی کی وجہ سے اس وقت خاموش نہ رہے جب یہ دستے کسی جرم میں ملوث ہوں۔

کونگو میں پاکستانی فوجیگنز فار گولڈ
کونگو الزامات، تحقیقات مکمل ہونے والی ہیں
امن فوج(فائل فوٹو)فوج کی’سمگلنگ‘
کانگو میں پاکستانی امن فوج کی غیرقانونی تجارت
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد