امن فوج: میعار بہتر کرنے کی ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے فوجیوں کو امن فوج میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے جن کی افواج پر تشدد کے رحجانات رکھنے کا شبہ ہو۔ تشدد کہ موضوع پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مینفریڈ نووک نے آسٹریا کے میگزین ’پروفائیل‘ کو دیئےگئے انٹرویو میں کہا ہے کہ امن فوج کے چناؤ کے اقوام متحدہ کے معیار انتہائی پست ہیں۔ انہوں نے بھرتی کے معیار کو بہتر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چاہیے تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ اپنی پیشہ ور فوج تیار کرنے پر غور کرے۔ مینفریڈ نووک کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی امن فوج پر بے اعتدالیوں اور طاقت کے غلط استعمال کے بعض الزامات سامنے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے پچھلے تین سالوں میں کانگو، ہیٹی، کمبوڈیا اور آئیوری کوسٹ میں امن فوج پر لگے ایسے الزامات کی تفتیش بھی کی ہے۔ آسٹرین میگزین کو دیئے گئے انٹرویو میں مینفریڈ نووک نے امن فوج کی تربیت اور اخلاقیات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے قابل اعتراض ریکارڈ کے حامل ترقی پذیر ممالک سے (امن فوج کے لیے) اہلکار حاصل کیے جاتے ہیں۔ نووک کا کہنا تھا ’ایسے ممالک سے آئے امن فوج کے سپاہی وہی جرائم کر سکتے ہیں جو کہ وہ اپنے ملک میں کرتے ہوں۔‘ انہوں نے آئیوری کوسٹ کا ذکر کیا جہاں مراکش سے آئے امن فوجیوں پر جنسی استحصال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ سات سو تیس اہلکاروں پر مشتمل مراکش کے دستے کو الزامات سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے حکم پر ان کی بیرکس تک محدود کر دیا گیا تھا۔ نووک کا کہنا تھا کہ نیپالی فوجیوں کو امن فوج میں کام کرنے سے روک دینا چاہیے کیونکہ ان پر ماؤ باغیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ ’جب تک نیپال کی فوج تشدد آمیز کارروائیوں میں مصروف ہے، وہاں سے امن فوج کے لیے کسی کی بھی خدمات حاصل نہ کی جائیں۔‘ |
اسی بارے میں اقوام متحدہ: جنسی زیادتی کے الزامات21 July, 2007 | آس پاس اسلحہ سمگلنگ، یو این کی تشویش12 June, 2007 | آس پاس امن فوج: ایشیائی ملکوں کی یقین دہانی26 August, 2006 | آس پاس امن افواج کی جنسی زیادتیاں08 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||