امن فوج: ایشیائی ملکوں کی یقین دہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ایک سینئر ترجمان کے مطابق مختلف ملکوں نے لبنان میں امن فوج تعینات کرنے کے فوجی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ایڈورڈ مورٹیمر نے بی بی سی کو بتایا کہ امن فوج کے لیئے دستے فراہم کرنے کی انہیں کئی ایشیائی ملکوں سے قابل ذکر پیش کشیں موصول ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ مغربی ممالک امن فوج کے لیئے سات ہزار فوجی فراہم کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی قائم رکھنے کے لیئے پندرہ ہزار فوجیوں پر مشتمل امن فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق ترکی نے بھی فوجی مہیا کرنے کے بارے میں پیش کش کی ہے جو کہ ترکی کی لبنان کے ساتھ جغرافیائی قربت کی بنا پر بہت اہم ہے۔ اقوام متحدہ کو امید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں امن فوج کے دستے لبنان پہنچنا شروع ہو جائیں گے گو کہ فن لینڈ نے جس کے پاس آج کل یورپی یونین کی سربراہی بھی کہا ہے کہ اسے فوجی لبنان بھیجنے میں چند مہینے لگ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہوں نے اٹلی سے بات کی ہے کہ وہ فروری میں امن فوج کی قیادت سنبھال لے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ امن فوج کی تعیناتی تک مکمل طور پر لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔ | اسی بارے میں لبنان: امن فوج کی جلد روانگی 25 August, 2006 | آس پاس ’عالمی فوج کی تعیناتی جارحانہ قدم ہوگا‘24 August, 2006 | آس پاس فرانس مزید فوج بھیجنے پر رضا مند 24 August, 2006 | آس پاس عالمی فوج کی فوری تعیناتی پر زور24 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||