BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 July, 2007, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوام متحدہ: جنسی زیادتی کے الزامات
اقوام متحدہ کی فوج
اقوام متحدہ کی امن فوج پر اس سے قبل بھی جنسی زیادتییوں کے کئی الزامات سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ آئیوری کوسٹ میں امن فوج پر بڑے پیمانے پر جنسی زیادتیوں اور استحصال کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس نے بواکا میں موجود اپنی فوج کو بیرکوں تک محدود کر دیا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ان امن فوجیوں کا تعلق کن ممالک سے ہے۔

اقوام متحدہ کے دستوں پر اس سے قبل بھی کئی مقامات پر جنسی زیادتیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں جس کے باعث اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ ان الزامات پر ’زیرو ٹالرینس‘ پالیسی اختیار کی جائے گی۔

2006 میں اپنے منصب سے دستبردار ہونے سے پہلے ان کا کہنا تھا کہ ’جنسی استحصال اور زیادتی بداخلاقی ہے اور اقوام متحدہ اس کی شدید مخالفت کرتی ہے اور اس میں ملوث لوگوں کو سزا دی جائے گی‘۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حالیہ الزامات ایک انکوائری کے بعد سامنے آئے ہیں اور اس بارے میں مکمل انکوئری کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ یہ الزامات شدید نوعیت کے ہیں اس لیے اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دستے کی تمام نقل و حرکت کو روک دیا جائے اور اس یونٹ کو اس کی بیس تک محدود کر دیا گیا ہے۔‘

یہ مانا جا رہا ہے کہ اس میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ اس بات کا ذکر نہیں کریں گے کہ اس تفتیش میں شامل دستوں کا تعلق کن ممالک سے ہے۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق بواکا میں موجود افواج کا تعلق مراکش، پاکستان، بنگلہ دیش اور گھانا سے ہے تاہم یہ بات سامنے نہیں آئے کہ کس ملک کا دستہ شک کے دائرے میں ہے۔ اقوام متحدہ نے معمول کے خلاف اپنے پوری فورس کو علاقے میں ان کے بیرکوں تک محدود کر دیا ہے۔

بی بی سے کے پیٹر مائلز کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس ردعمل سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ ان حالیہ الزامات پر بہت سنجیدگی سے عمل درآمد کر رہا ہے۔

عراقی پناہ گزینپناہ گزین بڑھ گئے
پانچ سال بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ
لبنانمکمل تباہی سر پر
’حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں‘
یواین سیکرٹری جنرل
جنوبی کوریا کے بان کیمون کی کامیابی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد