’امریکہ اپنی اقدار کی پاسداری کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوفی عنان نےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے آخری خطاب میں امریکہ پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کو نظر انداز نہ کرے۔ امریکہ کو بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرنے کی نصحیت کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ کوئی قوم دوسری قوموں پر اپنی برتری مسلط کرکے اپنے آپ کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔ کوفی عنان نے کہا کہ ملکوں کو جوابدہ بنا ضروری ہے اور یہ اقوام متحدہ ہی کی سطح پرممکن بنایا جا سکتا ہے۔ کوفی عنان کی اس تقریر کو صدر بش کے لیے ایک سخت جواب تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکہ سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بھیل نے کہا کہ کوفی عنان نے ایک مرتبہ پھر عراق جنگ کا ذکر کیا جسے وہ پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب طاقت اور خاص طور پر فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے تو دنیا اسی صورت میں اسے قانونی اور درست تصور کرتی ہے جب نیک مقصد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کی جائے۔ کوفی عنان انیس سو ستانوے سے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز تھے اور اب یکم جنوری سے ان کی جگہ جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے بان کی مون سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ کوفی عنان امریکہ کے سابق صدر ہینری کرومین کے نام سے منسوب مزوری سٹی میں ہینری ٹرومین لائبریری میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انہوں نے پانچ سابق سیکھے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کے علمبردار کی حیثیت سے امریکہ کے تاریخی کردار کو سراہا اور کہا کہ امریکہ اپنی ساکھ کو اسی صورت بچا سکتا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ان ہی اصولوں کی پاسداری کی جائے۔ کوفی عنان نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے ہی بنائے ہوے اصولوں اور اقدار سے انحراف کرنے کا تاثر دے گا تو اس کی تقلید کرنے والے ملک یقینی طور پر ابہام کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ انمول لمحہ ہے جب واشنگٹن عالمی سطح پر جمہوری اصولوں کو ترویج کرسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ مغرب اور مشرق کی تہذیبوں میں کوئی ٹکراؤ یا تصادم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تمام تہذیبوں کو خطرہ ہے اور ان کو مشترکہ کوششوں سے ہی بچایا جا سکتا ہے۔ کوفی عنان کی اس آخری تقریر کو ایک خاص علامتی حیثیت حاصل ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس تقریر کے لیے ہینری کرومین لائبریری کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا۔ اس تقریر میں کوفی عنان نے متعدد مرتبہ ہینری کرومین کے اقوال اور سیاسی افکار کا حوالہ دیا۔ کوفی عنان نے آخر میں امریکی پالیسی پر نظر ثانی کی اپیل کی اور کہا کہ موثر طور پر کام کرنے کے لیے ہینری ٹرومین کی طرح دوراندیش قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کے موجودہ اور آنے والے رہنما ایسی قیادت فراہم کریں گے۔ | اسی بارے میں اسرائیل پیش رفت سے مطمئن: عنان 13 September, 2006 | آس پاس ’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘19 September, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل 02 October, 2006 | آس پاس ماحولیاتی تبدیلی سلامتی کیلیے خطرہ15 November, 2006 | آس پاس ’عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے‘27 November, 2006 | آس پاس ’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘04 December, 2006 | آس پاس کوفی عنان کے بیان پر صدمے کا اظہار04 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||