BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 September, 2006, 06:32 GMT 11:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل پیش رفت سے مطمئن: عنان
اسرائیلی جیلوں میں لبنانی قیدیوں اور اسرائیل کے مقبوضہ فوجیوں کا معاملہ اہم ہے: کوفی عنان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقے سے اپنی فوج کے انخلاء میں خاصی پیش رفت دکھائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اور اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی کے مطالبے کو بہت حد تک پورا کردیا ہے۔

کوفی عنان کا کہنا تھا کہ اور اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی تعمیل کی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ چونتیس روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پھر سے عدم استحکام آ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے معاہدے کی پاسداری میں استقامت کا مظاہرہ کیا ہے تاہم انہوں نے انیس اگست کو مشرقی لبنان کے علاقے پر اسرائیلی حملے کو معاہدے کی سخت خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی طویل المعیاد معاہدے کو اس تنازعے کے مخفی وجوہات کا سد باب کرنا چاہیے اور انہوں نے اشارہ دیا کہ اس ہفتے کے آخر تک جنوبی لبنان میں امن فوج کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ جائے گی۔

کوفی عنان نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ لبنانی فضائی حدود میں اپنی پروازیں بند کردے۔ انہوں نے جنوبی لبنان میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کے بارے میں بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ لبنانی حدود میں حکومتی بالادستی دوبارہ قائم کرنے کے لیئے حزب اللہ کو سیاسی طریقے سے غیر مسلح کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے قبضے سے اسرائیلی فوجیوں کی غیر مشروط رہائی اور اسرائیل کی قید میں موجود حزب اللہ کےکارکنوں کا معاملہ دونوں انتہائی اہم ہیں۔

منگل کو حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ اگر 27 سال سے اسرائیلی قید میں موجود ان کے کارکنوں کو رہا کردیا جاتا ہے تو حزب اللہ کے قبضے سے بھی اسرائیلی فوجی رہا کردیئے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی کسی بھی ڈیل میں عمر قنطار کی رہائی کا معاملہ بھی شامل ہے جنہیں 1979 میں اسرائیلی فوج نے کئی افراد کی ہلاکت کے جرم میں ایک حملے کے بعد حراست میں لیا تھا۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کوفی عنان نے پیش رفت کے حوالے سے جو بات کی ہے اس سے ایک ملی جلی سی تصویر سامنے آتی ہے۔

جلعاد شیلاطاسرائیل کی مشکل
فوجی کے مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا
کوفی عنان کا دورہ لبنان
عنان نے لڑائی سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد