BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 April, 2007, 07:11 GMT 12:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نابینابہن بھائی پنڈی سےامریکہ تک

عمران احمد
اسکرین ریڈر سافٹ ویئر بنانے کی خواہش
یہ دو پاکستانی نابینا طالب عالم بہن بھائیوں کی کہانی ہے جنہوں نے علم کے حصول کے لیے لاہور اور راولپنڈی سے امریکہ تک کا سفر طےکیا ہے جہاں وہ وسکانسن ریاست کے شہر واکیشا کے کیرول کالج میں میں کمپیوٹر سائنس میں گریجوئیشن کررہے ہیں۔

حنا الطاف اور عمران احمد نابینائوں کےلیے ایک اسکرین ریڈر سافٹ ویئر پر کام کر رہے ہیں جس کے پایہء تکمیل کو پہنچنے سے نابینا افراد انٹرنیٹ پر اردو زبان میں لکھی ہوئي تحریریں اور کتابیں پڑہ سکیں گے۔

اور دنیا میں بصارت سے محروم لوگوں کےلیے اردو زبان میں، ان بہن بھائیوں کے مطابق، اپنی نوعیت کا یہ پہلا سافٹ ویئر ہوگا۔

وسکانسن ریاست سے حنا الطاف نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلیفون پر اپنی بات چیت میں بتایا کہ پاکستان میں بصارت سے محروم لوگوں کو ان کے مجوزہ سافٹ وئير سے بے حد فائدہ ملے گا کیونکہ وہاں پڑھنے کے لیے نابینا طالب علموں اور پیشہ ور لوگوں کے لیے اردو میں بریل باکس (نابینا افراد کے پڑھنے کے لیے کتابیں) موجود نہیں۔

لیکن یہاں امریکہ میں پاکستان سے ایک بڑی جہد مسلسل کے بعد بین الاقوامی طالب علموں کے طور پر آنے والے ان دونوں بھائی بہن کے خواب اور ان کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو چلے ہیں کیونکہ ان کے تعلیمی اخراجات کے لیے ان کے پاس صرف ایک سال تک کی اسپانسرشپ تھی جو آئندہ ماہ مئي میں انکے سمسٹر کے اختتام پر ختم ہوجائيگی۔

پاکستان کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے ان دونوں بہن بھائي کی وطن سے دور پردیس میں تعلیم حاصل کرنےکی جدوجہد ان کی مستقل مزاجی، محنت اور لگن کا پتہ دیتی ہے۔

اپنی ابتدائي تعلیم لاہور میں نابیناؤں کے اسکول اور پھر اعلی ثانوی اور کمپیوٹر میں گریجوئیشن راولپنڈی کے معذور افراد کے ایک کالج سے مکمل کرنے کے بعد حنا الطاف اور عمران احمد نابینا لوگوں کے لیے ایک ایسا سافٹ وئير بنانا چاہتے تھے جس کی اسکرین ریڈنگ اردو زبان میں کی جا سکے۔

 ایسے سافٹ ویئر کی تیاری کے ضمن میں پاکستان میں نابینا طلبا کے لیے مزید تعلیم، آلات و سائل کی کمی کے سبب وہ ان آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر تھے
حنا

حنا اور عمران کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نابینا افراد کے پڑھنے کی کتابوں کی عدم دستیابی کے تجربات نے ہمیں ایک ایسے سافٹ وئير کی تیاری کے خیال اور ارادوں کو پختہ کیا۔

حنا کا کہنا تھا ایسے سافٹ ویئر کی تیاری کے ضمن میں پاکستان میں نابینا طلبا کے لیے مزید تعلیم، آلات و سائل کی کمی کے سبب وہ ان آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر تھے۔

ان کوششوں میں ان دونوں کی ملاقات امریکہ میں مشیگن ریاست میں نابیناؤں کے جریدے کی ایڈیٹر سے ہوئی۔

حنا اور عمران نے اس امریکی خاتون سے اپنے اردو زبان میں اسکرین ریڈر والے اس سافٹ ویئر کی تیاری اور اس کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے عزائم کا ذکر کیا۔

حنا نے بتایا کہ ان کی امریکی دوست نےمشیگن میں ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر سہیل اختر حسن سے ان دونوں کے بارے میں بات کی شمالی امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی سرگرم تنظیم ’اپنا‘ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سہیل حسن اختر نے دونوں بہن بھائيوں کے ایک سال کے تعلیمی اخرجات جو کہ چالیس ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہیں برداشت کرنے کی حامی بھر لی۔

 ہم نے پل پل ٹوٹتے دیکھا ہےجو لوگ دعویٰ دوستی کا کرتے تھے انکو ہمیشہ بدلتے دیکھا ہے تپتی دھوپ میں ساۓ کی تلاش میں ہم نے اکثر جلتے دیکھا ہے۔

حنا اور عمران کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اور سول سوسائٹی بھی بحیثیت انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ کے ان کے تعلیمی اخراجات میں مدد کرنے سے قاصر ہے۔

وسکانسن ریاست کے شہرت یافتہ کیرول کالج میں صرف یہ دونوں نابینا بہن بھائي ہی واحد پاکستانی اسٹوڈنٹس ہیں جبکہ، حنا کے مطابق، بصارت سے محروم کچھ طالبات کا تعلق بھارت سے بھی ہے۔

حنا الطاف اور عمران حمد کا کہنا ہےکہ انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے اس سافٹ وئیر بنانے کے خواب کو شرمندہء تعبیر کرلیں گے جس کے اسکرین ریڈر کی مدد سے نابینا افراد انٹرنیٹ پر اردو میں مواد پڑھنے کے قابل ہوجائيں گے۔

جس کے لے ابتک کوئي بھی مکمل سافٹ وئير موجود نہیں

مستغرق مطالعہ ہونے کا مشغلہ رکھنے والے عمران احمد نے کہا کہ انکا دوسرا جنوں کرکٹ ہے جبکہ حنا الطاف مطالعے کے مشغلے کے علاوہ شاعری بھی کرتی ہیں۔انہوں نے اپنے کچھ شعر سنائے

ہم نے پل پل ٹوٹتے دیکھا ہے
جو لوگ دعویٰ دوستی کا کرتے تھے
انکو ہمیشہ بدلتے دیکھا ہے
تپتی دھوپ میں ساۓ کی تلاش میں
ہم نے اکثر جلتے دیکھا ہے۔

اسی بارے میں
لاوارث بچوں کی ماں
13 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد