امریکن ائرلائز کو مالی مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے امریکی کی سب سے بڑی آئرلائن کے حصص کی قدر میں پچیس فیصد کم ہو گئی ہیں۔ امریکن ائر لائنز نے بڑے پیمانے پر پروازیں کم کرنےاور ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ائرلائنز کے چیف ایگزیکٹو جیراڈ آر پی نے کہا ہے کہ ہوا بازی کی صنعت تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ امریکن ائرلائنز نے پچھترطیاروں کوگراونڈ کرنے کے علاوہ اندرون ملک فلائٹ کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ائیر لائن نے کہا ہے کہ مسافروں کے سامان کی جانچ پڑتال کے عوض علیحدہ چارج کرے گی۔ گولڈمین سیکسس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث خام تیل کی قیمت چھ ماہ سے دو سال کے اندر دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ گولڈمین سیکسس کی رپورٹ کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث امکان ہے کہ چھ ماہ سے دو سال کے اندر تیل کی قیمت دو سو ڈالر ہو سکتی ہے۔ گولڈمین سیکسس مسٹر مرتی نے اس سے پہلے تین سال قبل جب تیل کی قیمت پچپن ڈالر تھی پیشنگوئی کی تھی کہ یہ بڑھ کر ایک سو ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی اور اس سال جنوری میں ان کی بات درست ثابت ہوئی۔ تیل کی قیمتیں گزشتہ چار ماہ میں پچیس فیصد بڑھ چکی ہیں اور سن دو ہزار ایک کے بعد ان میں چار سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ کی بڑی وجہ چین کی اقتصادی ترقی ہے اور کسی حد تک انڈیا کی ترقی کا بھی اس میں ہاتھ ہے۔ تیل کی مانگ میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب تیل پیدا کرنے والے کئی ممالک کو تیل کی پیداوار میں مسائل کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں سعودیہ پیداوار بڑھانے کو تیار نہیں16 May, 2008 | آس پاس تیل ’200 ڈالر فی بیرل ہوسکتا ہے‘07 May, 2008 | آس پاس تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ19 October, 2007 | آس پاس ایران پر حملہ، شاویز کا انتباہ18 November, 2007 | آس پاس تیل کی نئی قیمت 111 ڈالر فی بیرل13 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||