ترک فضائی حملہ: 150 کرد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترک آرمی کا کہنا ہے کہ شمالی عراق ترک فضائی حملوں میں ایک سو کرد باغی ہلاک ہوئے ہیں۔ ترک آرمی کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی اندازے کے مطابق ایک سو پچاس دہشت گرد آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب کردستان ورکرز پارٹی ’پی کے کے‘ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں صرف چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا بھی مختلف گروہوں سے تعلق تھا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ترکی نے کئی بار عراق میں سرحد پار حملے کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے یہ حملے باغیوں کی سرکوبی کے لیے ہیں۔ ترک آرمی نے بتایا کہ جمعرات کو شروع ہونے والے ان حملوں میں شمالی عراق کے قندل ناہی پہاڑی سلسلے میں پی کے کے چھاپہ ماروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ لیکن پی کے کے کے ترجمان احمد دنیش نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ اس حملے میں چھ باغی ہلاک ہوئے اور ان کا تعلق بھی ایران کے خلاف لڑنے والے گروہ سے تھا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ترک پارلیمان کی جانب سے فوج کو عراق پر حملوں کی منظوری ملنے کے بعد ترکی نے عراق میں ’پی کے کے‘ کے مشتبہ ٹھکانوں پر ایک زمینی حملہ جبکہ فضائی اور توپ خانوں سے مسلسل حملے کیے ہیں۔ ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں ایک علیحدہ کرد ریاست کے قیام کے لیے سنہ1984 میں شروع ہونے والی ’پی کے کے‘ کی لڑائی میں اب تک تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ، یورپی یونین اور ترکی ’پی کے کے‘ کو ایک دہشت گرد تنظیم گردانتے ہیں۔ |
اسی بارے میں عراق، القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری 11 January, 2008 | آس پاس ’ترکی کی حمایت کرتے ہیں‘ 25 December, 2007 | آس پاس ترک فوج عراق میں گھس گئی18 December, 2007 | آس پاس ترکی: سرحد پار آپریشن کی دھمکی09 October, 2007 | آس پاس عراق دہشتگردوں سے دور ہو: ترکی 16 October, 2007 | آس پاس ترکی عراق میں فوج بھیج سکتا ہے: طیب23 October, 2007 | آس پاس ترکی: انتخابات، فوج کی وارننگ28 April, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||