BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 April, 2008, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صومالیہ کے خطرناک سمندری قزاق

قذاق
ماہی گیروں کی کشتیوں، سامان بردار جہاز اور دیگر کشتیوں پر حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے
صومالیہ کا سمندر غیر محفوط ترین آْبی گزرگاہ بن گیا ہے کیونکہ اس کے پانیوں میں نہایت خطرناک اور مسلح قزاق موجود ہیں جو کہ تاوان کے لیے اپنے شکار کا انتظار میں گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔

ماہی گیروں کی کشتیوں، مال بردار جہاز اور دیگر کشتیوں پر حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ تاہم یہ کارروائیاں زیادہ دن نہیں چلیں گی کیونکہ دنیا کی بحری فوجوں نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

فرانس اور امریکہ، اقوام متحدہ کی قرار داد تیار کر رہے ہیں جس سے ان فوجوں کو اختیار ہو گا کہ دوسرے ممالک کی سمندری حدود میں ان قزاقوں کا پیچھا کریں اور حراست میں لیں۔ اس وجہ سے فوجوں کے گشت میں بھی اضافہ ہو گا۔

اس امر کی ضرورت اس ماہ کے شروع میں محسوس ہوئی جس میں فرانسیسی کمانڈوز نے ہیلی کاپٹر سے حملہ کر کے تیس یرغمالیوں کو رہا کروایا۔ صومالی قزاقوں نے پرتعیش بادبانی کشتی پر حملہ کر کے تیس سیاحوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ ایک ملین پاؤنڈ تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک حالیہ واقعہ میں اطالوی جھنڈے والے تیل بردار جہاز پر اطالوی بحریہ نے حملہ ناکام بنا دیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق صومالی قزاق تیز رفتار کشتیوں پر تیل بردار جہاز کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اطالوی بحریہ نے ان کا راستہ روکا۔

دوسری طرف صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹلینڈ کے فوجیوں نے دبئی کے جہاز پر دھاوا بول کر سات قزاقوں کو گرفتار کیا اور جہاز کے عملے کو رہا کروایا۔

سپین کی ماہی گیر کشتی پر بیس اپریل کو حملے کے بعد سپین نے بھی ایک فریگیٹ بھیجی ہے اور فرانس، امریکہ اور نیٹو سے بھی مدد مانگی ہے۔

صومالیہ پچھلے دو دہائیوں سے مضبوط حکومت کے بغیر ہے اور عبوری حکومت ملک کے بڑے علاقے کو کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے جہاں پر وار لارڈ کی من مانی چل رہی ہے۔

ہیلی کاپٹر
انٹرنیشنل میریٹائم بیورو کے مطابق سنہ دو ہزار سات میں اکتیس حملے کیے گئے

لیکن صومالیہ کے سمندر سے ایک اہم ترین بحری راستہ گزرتا ہے۔ ایشیا سے مغرب کی طرف سفر کرتے جہاز خلیج گزر کریورپ جاتے ہیں۔ کئی جہاز بحیرہ احمر سےنکل کر صومالی پانی سے ہوتے ہوئے ایشیا کا رخ کرتے ہیں۔

انٹرنیشنل میریٹائم بیورو کے مطابق سنہ دو ہزار سات میں اکتیس حملے کیے گئے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

میریٹائم بیورو میں تجزیہ کار سائرس موڈی کا کہنا ہے کہ صومالی قزاق ماہر ہیں، اچھی طرح مسلح ہیں اور کشتیوں کے بارے میں بہت جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قزاقوں کے پاس میری ٹائم ریڈیو ہیں جس سے ان کو کشتیوں کی نقل و حرکت کا علم رہتا ہے۔

’یہ قزاق کئی بار مدد کا سگنل بھیجیں گے اور جہاز قریب آنے پر کلاشنکوف اور راکٹوں سے حملے کردیں گے۔‘ اس ہفتے دبئی کے جہاز کے اہلکار نے کہا کہ قزاقوں نے پیاسے ہونے کا ڈھونگ کیا اور جہاز پر قبضہ کر لیا۔

وہ اکثر ’مدر بوٹ‘ سے اپنی کارروائی کرتے ہیں جو کہ ایک بڑی ماہی گیر کشتی ہے جس پر چھوٹی تیز رفتار کشتیاں موجود ہوتی ہیں۔ اس کی بدولت وہ سینکڑوں میل دور جہازوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

قزاق کشتی پر حملہ کرتے ہیں اور اگر کشتی کو جلد ان کے نرغے سے نہیں نکالا جائے تو وہ جہاز پر چڑھ کر قبضہ کر لیتے ہیں اور اس کو صومالیہ کی حدود میں لے جاتے ہیں۔

بی بی سی کے اولاد عمر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر قزاق سابق ماہی گیر ہیں اور انہوں نے جہازوں پر حملے اس لیے کرنے شروع کیے کہ یہ جہاز ان کا کاروبار خراب کر رہے ہیں۔

 ’قزاقوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ تاوان کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی تب تک وہ ہم لوگوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔ انہوں نے ویسے بھی کہہ دیا تھا کہ یرغمالیوں کی عافیت پر ہی ان کو پیسے ملیں گے۔
کپتان کالن ڈارچ

’کاروباری لوگ اور وار لارڈ نے بھی حصہ لینا شروع کیا کیونکہ ان کو اس میں منافع نظر آیا۔ قزاق اور ان کی پشت پناہی کرنے والے لوٹ مار کا مال آدھا آدھا کرتے ہیں۔

ہالینڈ کی کمپنی نے پچھلے ماہ ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ تاوان قزاقوں کو دیا تھا اور اس امر کی پنٹلینڈ حکام نے سخت مذمت کی ہے۔

ایک جہاز کے کپتان کالن ڈارچ نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلی فروری کو قزاق ان کے جہاز پر چڑھ آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے موقعوں پر وہ قزاقوں کے خلاف سخت کارروائی کے حامی ہیں۔

انہوں نے کہا ’قزاقوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ تاوان کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی تب تک وہ ہم لوگوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔ انہوں نے ویسے بھی کہہ دیا تھا کہ یرغمالیوں کی عافیت پر ہی ان کو پیسے ملیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ قزاقوں کی تعداد دگنی ہو کر بیس ہو گئی تھی کیونکہ ان کو امریکی بحریہ کے گشت سے کارروائی کا خطرہ تھا۔

’وہ اکثر ہم کو بتاتے تھے کہ ان کے ملک میں سترہ سال سے حکومت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی محکمہ اس لیے لوٹنا ان کی مجبوری ہے۔‘

قزاقوں کا سربراہ بتالیس سالہ عماد عمر تھا۔ کپتان کالن ڈارچ نے کہا ’ہم کو بتایا گیا کہ عمر اس لیے سربراہ ہے کہ اس کو اسلحے تک رسائی ہے کیونکہ اس کے والد فوج میں تھے۔‘

صومالیہصومالیہ اور فریقین
کون کس کی حمایت کر رہا ہے؟
ایتھوپیا کا فوجیصومالیہ: آگے کیا؟
کیا صومالیہ افغانستان اور عراق کا عکس دے گا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد