زمبابوے:چنگرائی کا واضح فتح کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے کی حزبِ اختلاف کے مرکزی رہنما مورگن چنگرائی کا کہنا ہے کہ وہ انہیں صدارتی انتخاب میں واضح فتح حاصل ہوئی ہے اور انتخابات کے دوسرے مرحلے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سنہ 1980 سے برسرِ اقتدار صدر رابرٹ موگابے پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے عوام سے جنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ زمبابوے کی حکمران جماعت زانو پی ایف نے صدارتی الیکشن کے ممکنہ دوسرے مرحلے میں رابرٹ موگابے کی حمایت کا اعلان کیا ہوا ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے ایک اجلاس میں چھ روز پہلے ہونے والے الیکشن کے نتائج ، جن کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا، پر غور کیا۔ اس سے قبل زمبابوے کی پولیس نے اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کے وکلاء کو ہرارے ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ وکلاء انتخابی نتائج جاری کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کرنا چاہتے تھے۔ ایم ڈی سی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں گولی مارنے کی بھی دھمکی دی۔ تاہم زمبابوے کے نائب وزیرِ اطلاعات برائٹ مٹونگا کا کہنا ہے کہ ایم ڈی سی جھوٹی رپورٹیں پھیلا کر اقوامِ عالم کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر پولیس جماعت کے حامیوں کو عدالت میں داخل ہونے سے روک رہی تھی۔
ابتدائی نتائج میں صدر موگابے کی جماعت کی شکست کی اطلاعات کے بعد قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وہ انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہیں لیں گے۔ حکمران جماعت زانو پی ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سولہ نشستوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرے گی۔ اگر ان نشستوں پر ددوبارہ گنتی کے نتیجے میں زانو پی ایف کامیاب ہوگئی تو وہ پارلیمینٹ میں کھوئی ہوئی اکثریت واپس حاصل کرلے گی۔ اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس کے امیدوار مورگن چنگرائی نے پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں جو پچاس فیصد کی اس مقررہ حد سے اوپر ہیں جو دوسرے مرحلے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ ایک آزاد تخمینے کے مطابق مسٹر چنگرائی نے انچاس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ مسٹر موگابے نے بیالیس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن دوسرے مرحلے میں جاتے ہیں ، جو اگلے تین ہفتوں میں ہوگا، تو تشدد اور مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شوری ہوسکتا ہے جو ماضی میں زمبابوے کے الیکشن کا خاصہ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بائلز کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف کے ہارڈ لائینرز نے صدر موگابے کی حمایت کی ہے لیکن پارٹی میں ایسی بھی بہت سے رہنما ہیں جو لیڈرشپ میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا خیال ہے کہ صدر موگابے کی رہنمائی میں زمبابوے کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ چوراسی برس کے صدر موگابے انیس سو اسی میں سفید فاموں سے آزادی کے وقت قومی رہنما بن کر ابھرے تھے لیکن پچھلے چند برسوں سے زمبابوے میں دنیا کا سب سے زیادہ افراطِ زر، ایندھن اور خودرنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل سے لوگ بہت پریشان ہیں۔ | اسی بارے میں موگابے کو حکمران پارٹی کی حمایت05 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کے مستقبل پر غور 04 April, 2008 | آس پاس ’موگابے استعفٰی نہیں دیں گے‘04 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: حزب اختلاف کی فتح03 April, 2008 | آس پاس موگابے دوسرے مرحلے کے لیے تیار03 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کی جماعت کو شکست02 April, 2008 | آس پاس موگابے سبکدوش نہیں ہو رہے02 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: موگابے کو ہرانے کا دعویٰ31 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||