BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 April, 2008, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمبابوے:چنگرائی کا واضح فتح کا دعوٰی
مورگن چنگرائی
ایم ڈی سی کے مطابق مورگن چنگرائی نے پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ حاصل کیےہیں
زمبابوے کی حزبِ اختلاف کے مرکزی رہنما مورگن چنگرائی کا کہنا ہے کہ وہ انہیں صدارتی انتخاب میں واضح فتح حاصل ہوئی ہے اور انتخابات کے دوسرے مرحلے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے سنہ 1980 سے برسرِ اقتدار صدر رابرٹ موگابے پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے عوام سے جنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ زمبابوے کی حکمران جماعت زانو پی ایف نے صدارتی الیکشن کے ممکنہ دوسرے مرحلے میں رابرٹ موگابے کی حمایت کا اعلان کیا ہوا ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے ایک اجلاس میں چھ روز پہلے ہونے والے الیکشن کے نتائج ، جن کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا، پر غور کیا۔

اس سے قبل زمبابوے کی پولیس نے اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کے وکلاء کو ہرارے ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ وکلاء انتخابی نتائج جاری کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کرنا چاہتے تھے۔ ایم ڈی سی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں گولی مارنے کی بھی دھمکی دی۔

تاہم زمبابوے کے نائب وزیرِ اطلاعات برائٹ مٹونگا کا کہنا ہے کہ ایم ڈی سی جھوٹی رپورٹیں پھیلا کر اقوامِ عالم کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر پولیس جماعت کے حامیوں کو عدالت میں داخل ہونے سے روک رہی تھی۔

ایم ڈی سی کے وکلاء کو ہرارے ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

ابتدائی نتائج میں صدر موگابے کی جماعت کی شکست کی اطلاعات کے بعد قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وہ انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہیں لیں گے۔ حکمران جماعت زانو پی ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سولہ نشستوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرے گی۔ اگر ان نشستوں پر ددوبارہ گنتی کے نتیجے میں زانو پی ایف کامیاب ہوگئی تو وہ پارلیمینٹ میں کھوئی ہوئی اکثریت واپس حاصل کرلے گی۔

اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس کے امیدوار مورگن چنگرائی نے پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں جو پچاس فیصد کی اس مقررہ حد سے اوپر ہیں جو دوسرے مرحلے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ ایک آزاد تخمینے کے مطابق مسٹر چنگرائی نے انچاس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ مسٹر موگابے نے بیالیس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن دوسرے مرحلے میں جاتے ہیں ، جو اگلے تین ہفتوں میں ہوگا، تو تشدد اور مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شوری ہوسکتا ہے جو ماضی میں زمبابوے کے الیکشن کا خاصہ ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بائلز کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف کے ہارڈ لائینرز نے صدر موگابے کی حمایت کی ہے لیکن پارٹی میں ایسی بھی بہت سے رہنما ہیں جو لیڈرشپ میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا خیال ہے کہ صدر موگابے کی رہنمائی میں زمبابوے کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

چوراسی برس کے صدر موگابے انیس سو اسی میں سفید فاموں سے آزادی کے وقت قومی رہنما بن کر ابھرے تھے لیکن پچھلے چند برسوں سے زمبابوے میں دنیا کا سب سے زیادہ افراطِ زر، ایندھن اور خودرنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل سے لوگ بہت پریشان ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد