BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودی عرب: خواتین کا پہلا ہوٹل
سعودی ہوٹل
ہوٹل میں کانفرنس روم کے علاوہ صحت اورخوبصورتی سے متعلق سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں
مشرق وسطی میں خواتین کے لیے مخصوص پہلے ہوٹل کا سعودی عرب میں افتتاح کیا گیا ہے۔

یہ ہوٹل بنیادی طور پر ان کاروباری خواتین کے لیے مخصوص ہے جو عام طور پر مکمل پردہ کرتی ہیں اور مردوں سے الگ تھلگ رہ کر کام کرنا چاہتی ہیں۔

دارالحکومت ریاض میں تعمیر کیا گیا یہ ہوٹل پچیس کمروں پر مشتمل ہے اورکھانے پینے اور کانفرنس روم کے ساتھ ساتھ صحت اور خوبصورتی سے متعلق اعلیٰ سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔

ہوٹل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ صرف خواتین کے لیے مخصوص اس ہوٹل کے منصوبے کو سعودی عرب میں زبردست پذیرائی ملی ہے۔

لوتھن ہوٹل اینڈ سپاء نامی یہ پراجیکٹ بیس سعوی شہزادیوں اور کاروباری خواتین کی ملکیت ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بہت جلد یہ ہوٹل بڑی تعداد میں غیر ملکی اور مقامی خواتین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر الے گا۔

سعودی عرب میں خواتین کے لیے چوبیس گھنٹے کھلا رہنے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا سپاء ہوٹل ہے جبکہ اس سے قبل دوسرے ہوٹلوں میں خواتین کے لیے سوئمنگ پول صرف مخصوص دن یا اوقات میں میسر تھے۔

سعودی عرب جہاں وہابی فقہ کا اطلاق ہوتا ہے پبلک مقامات پر مردوں اور عورتوں کے میل جول کی سخت ممانعت ہے۔ خواتین کو ایسے مقامات پر اسلامی احکامات کے مطابق لباس پہننے کا حکم ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک میں خواتین کےگاڑی چلانے اور بہت سے اداروں یا مقامات پر ملازمت اختیار کرنے پر بھی پابندی ہے۔

ہماری نامہ نگار فرانسز ہیری سن کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کے لیے یہ ایک بہت بڑی خوش خبری ہے کہ وہ اس ہوٹل میں ویسے ہی چل پھر سکتی ہیں جیسا کہ اپنے گھر میں۔

لوتھن ہوٹل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹرلورین کا کہنا ہے ’اس عمارت کے اندر صرف خواتین کام کرتی ہیں۔اس ہوٹل کی مالکان اور انتظامیہ بھی خواتین پر مشتمل ہے۔‘

اس ہوٹل کی افتتاحی تقریب میں سعودی عرب کے سپریم کمیشن فار ٹورزم کے سیکرٹری جنرل شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبد العزیز نے بھی شرکت کی۔
شعبۂ سیاحت کے حکام نے دوسری خواتین کو بھی ملک میں اسی طرز کے ہوٹل قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔

غیر مسلم سیاحت
غیرمسلم سیاح سعودی عرب جا سکیں گے
شادیوزیرا کس کی بیوی؟
پاکستانی خاتون کی شادی اور پھر خلع کی کہانی
سعودی عربغلامی آج بھی ہے
سعودی عرب: غیرملکیوں کی زندگیاں اجیرن
فرینک گارڈنرایک بڑا چیلنج
سعودی عرب کے بنیادی چیلنج پر فرینک گارڈنر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد