کان میں دھماکہ، سو سے زائد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے وسطی علاقے میں ایک کان میں بدھ کو ہونے والے دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو پانچ ہو گئی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق حکام نے کوئلے کی پیداوار کے لیے مشہور چینی صوبے شینگ زی کے شہر لن فن میں واقع اس کان کے مینیجرز کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ مینیجرز پر الزام ہے کہ انہوں نے کوئلہ کی تلاش میں ایسی جگہ کانکنی کی جہاں اس کام کی اجازت نہیں تھی۔ مینیجرز پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حکام کو اس حادثے کی اطلاع چھ گٹنے کی تاخیر سے دی اور اس دوران وہ اپنے طور پر امدادی کوششوں میں لگے رہے۔ اطلاعات کے مطابق جائے حادثہ سے پندرہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق دھماکے کے بعد بتیس افراد پر مشتمل امدادی ٹیم بھیجی گئی تھی مگر وہ سب بھی دھماکے کی جگہ پر پھنس گئے۔ ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے چینی کانوں کے مالکان نفع کی خاطر حفاظتی انتظامات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اس قسم کے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ چین کی کانیں دنیا کی خطرناک ترین کانوں میں شمار کی جاتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر برس قریباً پانچ ہزار افراد ان کانوں میں ہونے والے مختلف حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی برس اگست میں چینی صوبےشانگ ڈونگ میں ایک سو اکیاسی کانکن اس وقت ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے جب کان میں سیلابی پانی بھر گیا تھا۔ چین کی حکومت نے حال ہی میں متنبہ کیا تھا کہ سرد موسم میں بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کان میں کام میں اضافے سے حادثات اور ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ | اسی بارے میں چین:کان میں دھماکہ ستّر ہلاک06 December, 2007 | آس پاس چین:ایک سو بہتّر کان کن پھنس گئے18 August, 2007 | آس پاس چین: دو حادثات میں 34 ہلاک12 February, 2006 | آس پاس دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس کوئلے کی کان میں دھماکہ، 68 ہلاک28 November, 2005 | آس پاس چین: کوئلے کان میں دھماکہ02 November, 2005 | آس پاس چین: ایک سو ستر کان کن پھنس گئے28 November, 2004 | آس پاس چینی کان میں دھماکہ: 56 ہلاک21 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||