چین: دو حادثات میں 34 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں مسافروں سے بھرا ایک ٹرک نالے میں گرنے اور کوئلے کی کان میں زہریلی گیس کے اخراج کے باعث کم از کم چونتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنوب مغربی صوبے یونان میں مسافروں سے بھرا ایک ٹرک نالے میں گر گیا جس کے نتیجے میں انیس افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرک پر گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ یہ حادثہ سینچر کی رات کو پیش آیا تاہم اس کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ چین کی بعض سڑکیں دنیا کی خطرناک ترین سڑکیں ہیں جن پر ہر سال ہزاروں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ گنجائش سے زیادہ سواریاں بیٹھنے کی وجہ سے حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسرا حادثہ وسطی صوبے میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس کے اخراج کی وجہ سے پیش آیا جس میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ ہو گئی ہے۔ یہ حادثہ جمعے کو صوبہ حینان کے ڈنگ فنگ شہر کی ایک کان میں پیش آیا جس میں چھپن افراد کام کر رہے تھے۔ حادثے کے بعد اکتالیس افراد زندہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ حکام اس وقت مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ چین کی کوئلے کی کانیں دنیا کی خطرناک ترین کانیں سمجھی جاتی ہیں اور ان میں سے بہت سی غیر قانونی طور پر کام کر رہی ہیں کیونکہ توانائی کی ضرورات بڑھ رہی ہیں اور چین کی معیشت میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ چین کی ’نیشنل سیفٹی ایڈمنسٹریشن‘ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے دوران کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے پانچ ہزار نو سو چھیاسی کارکن ہلاک ہوئے۔ تاہم مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہر سال بیس ہزار سے زائد مزدور کان کنی کے دوران ہلاک ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانوں کے مالکان جرمانوں اور کارروائی سے بچنے کے لیے ایسے واقعات کی خبر باہر نہیں نکالتے اور اپنے طور پر مزدوروں اور ان کے لواحقین کو مطمئین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں گوگل چین میں سینسر پر راضی25 January, 2006 | آس پاس امریکہ:چینی مسلم نے دریافت کیا؟13 January, 2006 | آس پاس چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی03 January, 2006 | آس پاس چین: بس دریا میں، ستائیس ہلاک 24 December, 2005 | آس پاس دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||