حملہ آور مشہور ہونا چاہتا تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست نبراسکا میں ایک شاپنگ سنٹر میں فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک کرنے کے بعد خود کشی کرنے والے لڑکے نے سارے واقعے سے پہلے ایک رقعے میں لکھا تھا کہ وہ مشہور ہونا چاہتا ہے۔ 19 سالہ رابرٹ ہاکنز نے بدھ کو اوماہا کے ویسٹ روڈز شاپنگ مال میں اندھا دھند فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا تھا جن میں سے دو کی حالات نازک بتائی جاتی ہے۔ ہاکنز گھر چھوڑنے کے بعد جس خاتون کے ہاں رہا اس نے کہا ہے کہ ہاکنز نے ایک رقعہ چھوڑا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اسے کیے پر افسوس ہے اور وہ کسی پر بھی بوجھ نہیں بننا چاہتا۔ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک رقعہ ملا ہے لیکن اس میں کیا ہے یہ نہیں بتایا۔ یہ واقعہ دوپہر کو پیش آیا جس وقت شاپنگ سنٹر کرسمس کی شاپنگ کرنے والے افراد سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں فائرنگ سے ’شدید صدمہ‘ پہنچا ہے۔ صدر بش نے بدھ کی صبح ہی ایک فنڈ ریزنگ فنکشن کے سلسلے میں اوماہا کا دورہ کیا تھا۔ پولیس سارجنٹ نیگرون نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ وہ حملہ آور سمیت نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمارے خیال میں کوئی دوسرا حملہ آور نہیں ہے‘۔ فائرنگ ویسٹ روڈز شاپنگ مال میں وان مائیر سٹور میں شروع ہوئی۔ سارجنٹ نیگرون کا کہنا ہے کہ پولیس مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے شاپنگ مال کے اندر سے کی جانے والی ہنگامی کال کے بعد جائے وقوع پر پہنچی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح شخص نے وان مائیر سٹور کی تیسری منزل کی ایک بالکنی سے فائرنگ کرنا شروع کر دی۔ جب تک پولیس جائے وقوع پر پہنچی تو فائرنگ بند ہو چکی تھی۔ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اس نے حملہ آور کو دیکھا۔’میں نے اسے بچوں کے شعبے میں دیکھا۔ وہ ایک لمبا آدمی تھا،بہت لمبا۔ وہ ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا اور ہوا میں گولیاں چلا رہا تھا‘۔ ہاکنز کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں ڈپریشن کا شکار رہا ہے۔ وہ میکڈونلڈز میں کام کرتا تھا جہاں سے حال ہی میں اسے فارغ کر دیا گیا تھا۔ اس کا اپنی دوست سے بھی تعلق ختم ہو گیا تھا۔ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گھر میں اوماہا کے نواح میں بیلیو کے علاقے میں رہتا تھا۔ اس کے دوست کی ماں نے سی این این کو بتایا کہ ایک بجے کے قریب اس کا فون آیا جس میں اس نے کہا کہ اس نے بیڈروم میں ایک رقعہ چھوڑا ہے۔ جب اس کے دوست کی ماں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ ’اب بہت دیر ہو چکی ہے‘ اور اس کے بعد فون بند کر دیا۔ نوٹ میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا کہ وہ مشہور ہونا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں فائرنگ سے عام شہریوں کی ہلاکت کا یہ اس برس میں تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل فروری میں ریاست اوتاہ میں بھی ایک شاپنگ سنٹر میں فائرنگ سے چھ افراد مارے گئے تھے جبکہ اپریل میں ریاست ورجینیا کی یونیورسٹی میں ایک جنوبی کوریائی طالبعلم نے تینتیس افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں شاپنگ سنٹر میں فائرنگ، نو ہلاک06 December, 2007 | آس پاس ہیلری کے دفتر میں دہشتگردی ڈرامہ01 December, 2007 | آس پاس امریکہ:شاپنگ سنٹر فائرنگ،6 ہلاک13 February, 2007 | آس پاس ورجینیا شوٹنگ: ’ملزم، امریکی کلچر‘ 19 April, 2007 | آس پاس ’گن مین جنوبی کوریائی تھا‘17 April, 2007 | آس پاس فائرنگ کے گواہ نے کیا دیکھا؟17 April, 2007 | آس پاس امریکی سکولوں میں فائرنگ17 April, 2007 | آس پاس امریکہ: مرنےوالے تینتیس ہو گئے16 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||