BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ورجینیا شوٹنگ: ’ملزم، امریکی کلچر‘

’جرائم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے ہوئے اسلحہ سے ہوتے ہیں نہ کہ قانونی اسلحہ سے‘
’تم پتہ نہیں کس شوٹنگ کی بات کررہے ہو! کئی سال قبل نیویارک شہر کی گلیوں میں ایک شخص کے ہاتھ میں مشین گن سے تڑا تڑ برستی گولیوں سے اندھا دھند فائرنگ کی یا کسی اور شوٹنگ کی؟ اوہ! تو تم کل ورجینیا والی شوٹنگ کی بات کر رہے ہو؟‘

یہ جواب تھا سان ڈیاگو کیلیفورنیا میں ایک گن شاپ پر اپنی کمر سے بظاہر ایک جدید نیم خودکار پستول باندھے سیلزمین کا جس سے میں گذشتہ پیر کو (سولہ اپریل) ورجینیا ریاست کے شہر بلیک برگس میں قائم پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اینڈ اسٹیٹ یونیورسٹی یا ورجینیا ٹیک میں ایک طالبعلم کے ہاتھوں تینتیس طلبہ کی ہلاکتوں پر بات کرنے گیا تھا۔

اولڈ گنز نامی بندوقوں کی اس دکان میں شکار کیے ہوئے ہرنوں اور بارہ سنگھوں کے سر اور سینگوں سمیت دیوار پر سجی ٹرافیوں اور الماریوں میں بھری طرح طرح کی بندوقوں، رائفلوں، پستولوں، ریوالورں اور کئی اقسام اور کیلیبر کی ہینڈ گنوں کے درمیاں کھڑے مجھے ایسے لگا جیسے میں پاکستان کی خیبر ایجینسی کی کسی اسلحے کی دکان میں آگیا ہوں۔

اگر وہ سفید داڑھی والا سیلزمین اس بندوقوں کی دکان کے کاؤنٹر کے پیچھے نہ کھڑا ہوتا اور کوئي بات نہ کرتا تو اس پر آپ کو واقعی بہت بڑے امریکی فکشن لکھاری اور ناول نگار ارنیسٹ ہیمنگوے کا گمان ہوتا کہ ان کی شکل ہیمنگوے سے کافی مشابہ تھی۔

اس واقعے کا تعلق امریکہ میں ہتھیاروں کے آزادانہ حصول یا بندوق کلچر سے نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نسلی مسئلہ ہے۔ یہ ایک شخصی ایشو تھا اور کیمپس سکیورٹی اسے روک سکتی تھی‘۔
دیبا مفتی

اس نے مجھے فقط اپنا پہلا نام جان بتایا اور اپنی تصویر لینے سے بھی منع کیا۔ دکان کے آخری کونے میں ایک اور ادھیڑ عمر کے کاریگر استاد چشمہ ناک پر رکھے پستول کی مرمت میں مصروف لیکن کان ہماری باتوں کی طرف لگائے ہوئے تھے۔

امریکی گن کلچر، پاور اور گن لابی نواز باتوں کا مشاہدہ کرنا ہو تو امریکہ میں بندوقوں کی کسی دکان پر تشریف لے جائیے۔ بندوقوں کی اس دکان پر جان اور اس کے ساتھی کے علاوہ ٹائي سوٹ میں ملبوس اس کے دو گاہک بھی موجود تھے جو میرے اور جان کے درمیان بات چیت میں شریک ہوگئے۔

امریکہ میں بندوقوں سے انسیت اور والہانہ لگاؤ پاکستانی علاقہ غیر یا قبائلیوں سے کہیں کم نہیں۔گن کنٹرول کے حق اور اس کی مخالفت میں بھی ایک زبردست اور کبھی بھی نہ ختم ہونے والی بحث موجود ہے۔

امریکہ میں بندوقوں سے انسیت اور والہانہ لگاؤ پاکستانی علاقہ غیر سے کم نہیں۔

سان ڈیاگو یونیورسٹی کی پاکستانی نژاد طالبہ دیبا مفتی کے مطابق ورجینیا کیمپس کے قتل عام میں ان کے ہائی اسکول کے دنوں کا دوست بھی ہلاک شدگان میں شامل ہے۔ دیبا مفتی یونیورسٹی کے ایک ہال میں ریپبلیکن پارٹی کا اسٹال چلا رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا’ورجینیا ٹیک میں دولتمندگھرانوں کے بچے اور انتہائي ذہین لوگ آتے ہیں۔ وہاں کوریائي تو زیادہ نہیں ہیں۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ اس طرح کے شخص (شوٹر) کو اسی ادارے میں داخلہ کیسے ملا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ اس واقعہ کا تعلق امریکہ میں ہتھیاروں کے آزادانہ حصول یا بندوق کلچر سے نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نسلی مسئلہ ہے۔ واشنگٹن ڈی سی سے تعلق رکھنے والی دیبا مفتی نے کہا کہ یہ ایک شخصی ایشو تھا اور کیمپس سیکیورٹی اسے روک سکتی تھی‘۔

تاہم بندوقوں کے بیوپاری جان کا کہنا تھا ’اب ہمیں مزید جاننے کی ضرورت ہوگي کہ بندوق خریدنے والا کون ہے۔ وہ شخص (ورجینیا کیمپس کا مبینہ قاتل) غیر امریکی شہری تھا۔ وہ صرف قانونی رہائشی یا ریزیڈنس ایلین تھا‘۔

جان کے گاہکوں میں سے ایک نے کہا’میں تو سمجھا تھا کہ قاتل کوئی گورا اور امریکی ہوگا جس نے ’وائیٹ ریج‘ (سفید فام اشتعال ) میں آ کر لوگوں کو ڈھیر کر دیا ہوگا لیکن یہ تو نرم جوتوں (سافٹ شوز) والا جنوبی کوریائي نکلا‘۔

یہ ایک شخصی ایشو تھا: دیبا مفتی

ریوالور کی چرخی ٹھیک کرنے والے کاریگر نے لقمہ دیا ’ کیا خبر کہ وہ اصل میں شمالی کوریائی ہو‘۔ جان نے کہا ’ کیا پتہ، ہم تو پنجرے میں بند چوہے ہیں۔ دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اسکولوں سے چرچ کی تعلیمات جدا کرنے کا نتیجہ ہے۔ اگر چرچ اور اسکول کی تعلیمات اکھٹی ہوتیں تو مارل کانشنس (اخلاقی ضیمر) کا قاتل کو پتہ ہوتا‘۔

جان نے مزید جوش اور تفریح میں آتے ہوئے کہا’ کہتے ہیں ’شوٹر‘ لڑکی کی بیوفائی پر مشتعل ہوا۔ ارے لڑکیاں تو سامنے سڑک پر بیس ڈالر میں ملتی ہیں، اس پر مشتعل ہو کر ان لوگوں کو مارنا جن کو وہ جانتا ہی نہیں تھا!‘ پھر اس نے مجھ سے کہا ’شاید تم اس سٹوری کے حقائق کبھی نہ جان سکو، گڈ لک‘۔

پروفیسر فلپ ٹی گے سان ڈیاگو یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی یا سماجیات کے سربراہ ہیں- انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنی ٹیلیفونک بات چیت میں کہا ’اس واقعے کا ملزم امریکی کلچر کو ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پرشوٹنگ۔ یہ ایک فرد واحد کی وڈیو گیم ہے‘۔

 ایسی کارروائی کرنے والا کوئي بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی، ایشیائی، ان میں سے عراقی، پاکستانی، ہندوستانی کوئی بھی۔ لیکن یہ ایشیائي خاصہ نہیں۔ کوریا میں ہرروز محبوباؤں کی بیوفائي پر کئي لوگوں کے دل ٹوٹتے ہیں تو کیا وہاں لوگ بندوق لےکر قتل عام کرتے ہیں؟ یہ وہاں نہیں ہوتا‘۔
پروفیسر فلپ ٹی گے

کیا یہ ایک نسلی مسئلہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر فلپ ٹی گے نے کہا ’ایسی کارروائی کرنے والا کوئي بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی، ایشیائی، ان میں سے عراقی، پاکستانی، ہندستانی کوئی بھی۔ لیکن یہ ایشیائي خاصہ نہیں۔ کوریا میں ہرروز محبوباؤں کی بیوفائي پر کئي لوگوں کے دل ٹوٹتے ہیں تو کیا وہاں لوگ بندوق لےکر قتل عام کرتے ہیں؟ یہ وہاں نہیں ہوتا‘۔

پروفیسر فلپ کا کہنا تھا ’ورجینیا شوٹنگ کا مبینہ شوٹر طالب علم بنیادی طور پر امریکہ میں پلا بڑھا تھا اور وہ امریکی معاشرے کی ہی پیدوار تھا۔ اس کا کردار وہ پیداوار تھا جو امریکی معاشرہ اور میڈیا تخلیق کرتے رہے ہیں اور یہ ایک منتشر ذہن والے شخص کا انفرادی عمل ہے۔ ہم بھی کسی وقت ڈسٹرب یا متشر الذہن ہوتے ہیں تو کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی قتل عام کریں؟‘۔

آتشیں اسلحے پر لوگوں کی آزادانہ رسائي بھی ایسے واقعات کا موجب ہے:امریکی طالبعلم

سکیورٹی کی ملازمت کرنے والے تھامس مارٹن کا کہنا تھا’ یہ بلڈی میس ہے۔ قتل عام کے دو واقعات میں ڈروم اور ہال کے درمیان دوگھنٹوں کے فرق پر تحقیقات ہونی چاہیے۔ ان دو گھنٹوں میں قاتل کہاں چھپا بیٹھا تھا۔ اگر یہ ایک ذاتی جھگڑا تھا تو پھر تینتس لوگوں کا قتل عام کیوں کیا اس نے؟ اس کا تعلق بندوقوں پر آزادانہ رسائی سے نہیں۔ یہ ایک سماجی معاملہ ہے لیکن قاتل نے بڑی کاپی کیٹ آخری دفعہ ہونے والی سکول شوٹنگ کے ملزمان سے چنی ہے‘۔

'گنز ساؤتھ کیلفورنیا کے میتھ اسٹیوینسن کا کہنا تھا’ٹیکساس اور ایریزونا ریاستوں کی طرح اگر ہر کسی کو اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہوتا تو ورجینیا جیسی واردات نہیں ہو سکتی تھی۔ جرائم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے ہوئے اسلحہ سے ہوتے ہیں نہ کہ قانونی اسلحہ سے‘۔

سان ڈیاگو سٹیٹ یونیورسٹی میں سماجیات کے استاد، معروف کرمنلاجسٹ اورامریکی جیلوں کے نظام پر ماہر پروفییسر شیلڈن کا ورجینیا ٹیک کے واقعہ پر نقطہ نظر تھا کہ’اس واقعہ کا الزام امریکی گن کلچر پر ہی عائد ہوتا ہے۔ تصور کریں کہ ایک ناراض طالب علم کسی کو کسی بھی وجہ سے( ناکام محبت، کلاسوں میں ناکامی یا روم میٹ سے جھگڑا) کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا تو اس کا بہتر راستہ باورچی خانے سے چھری اٹھانا ہوتا تھا۔ اس سے نقصان محدود ہوا کرتا تھا۔ بندوق کی بہ آسانی دستیابی سے امریکی سماج میں تشدد اور ہلاکت کی خود ہی وضاحت کردیتا ہے۔ ہر آدمی سے بندوق لے لینا شاید امریکہ میں اب تک خواب ہی ہے، شاید اس کے بجائے ہم ہر شخص کو مسلح کرنے کی کوشش کریں۔ اور اب یہاں پر ایک اور مفروضہ ہے۔ فرض کریں امریکہ میں ہر فرد مسلح ہوجاتا ہے- کالج کے نشانہ باز یا بینک لوٹنے والے کو کوئي بھی مجرمانہ سرگرمی کرنے سے پہلے دو بار سوچنا پڑے گا- گن کنٹرول امریکی سماج میں نہایت ہی حساس موضوع ہے جس کا کسی بھی طوفانی قانون سازی کے نتیجے میں تبدیل ہوجانے کا کوئی امکان نہیں ہے‘۔

طالب علم پیٹرک بیشلان کا کہنا تھا ’ہمیں لوگوں کو توجہ سے سننا چاہیے کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں، ہمیں لوگوں کو سمجھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ واقعات جو کبھی امریکی سماج میں رونما نہیں ہوتے تھے کیوں ہو رہے ہیں! آتشیں اسلحے پر لوگوں کی آزادانہ رسائي بھی ایسے واقعات کا موجب ہے۔‘ ایک اور طالب علم جیسن سیلزر نے کہا’ یہ اتنا بڑا سانحہ ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور ایسا سانحہ کہیں بھی ہو سکتا ہے‘۔

امریکی پولیسخون کے دس سال
امریکی درسگاہوں میں قتل کے واقعات
فائرنگ میں زخمیدرسگاہ میں خون
امریکی یونیورسٹی میں فائرنگ کے بعد
اسی بارے میں
قاتل کی آخری ویڈیو
19 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد