قاتل کی آخری ویڈیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کے مطابق ورجینیا یونیورسٹی میں کم از کم 30 لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے طالب علم نے واقعہ کے دن ایک امریکی ٹی وی نیٹ ورک کو ایک پیکج بھیجا تھا۔ این بی سی کو بھیجے گئےاس پیکج میں ’پریشان کر دینے والے فوٹو ، ویڈیو اور کچھ تحریریں تھیں ۔یہ سامان کالج کیمپس سے ہی بھیجا گیا تھا۔ ویڈیو میں چُو سیونگ ہوئی کیمرے کی جانب گن دکھا رہا تھا۔ ویڈیو میں چُو سیونگ ہوئی گن کیمرے کی جانب کرتے ہوئے کہتا ہے ’ آج جو کچھ بھی ہوا ہے اس کو روکنے کے لیے تمہارے پاس لاکھوں مواقع تھے لیکن تم نےمجھے ایسا کرنے کے لیے مجبور کیامیرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھافیصلہ تمہارا تھا اب یہ خون تمہارے سر ہوگا‘۔ چُو سیونگ ہوئی نے یہ بھی کہا ’ مجھے اپنی جان لینے کی کوئی ضرورت نہیں ورجینیا اسٹیٹ پولیس کے سپرینٹینڈنٹ کرنل سٹیو فلہرٹی کا کہنا ہے یہ پیکج تحقیقات کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ چُو سیونگ ہوئی کو 2005 میں نفسیاتی امراض سے متعلق شعبے میں داخل کروایا گیا تھا۔ این بی سی کا کہنا ہے کہ یہ پیکج ہلاکتوں کے دو واقعات کے درمیان دو گھنٹے کے وقفے کے دوران بھیجا گیا ہے۔مقامی وقت کے مطابق صبح کے سوا سات بجے یونیورسٹی کے ویسٹ ایمبلر جانسٹن ہال میں دو لوگوں کو ہلاک کیا گیا اور اس کے دو گھنٹے بعد چُو سیونگ ہوئی نے 30 لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ پولیس کا کہنا ہے دونوں واقعات میں ایک ہی گن استعمال کی گئی ہے۔دسمبر 2005 میں ساتھی طالب علموں نے چُو سیونگ ہوئی کے برتاؤ کے بارے میں شکایت بھی کی تھی۔ | اسی بارے میں ’گن مین جنوبی کوریائی تھا‘17 April, 2007 | آس پاس امریکہ: مرنےوالے تینتیس ہو گئے16 April, 2007 | آس پاس ورجینیا میں بھارتی پروفیسر کی موت 17 April, 2007 | انڈیا امریکی سکولوں میں فائرنگ17 April, 2007 | آس پاس امریکہ:شاپنگ سنٹر فائرنگ،6 ہلاک13 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||