BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 December, 2007, 03:52 GMT 08:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولادِ نرینہ،اسقاطِ حمل کی بڑی وجہ

مینا کا کردار نبھانے والی خاتون
’لڑکی ہوتی ہے تو سب مایوس ہو کر کہتے ہیں چلو کوئی بات نہیں‘
اولادِ نرینہ کے لیے معاشرتی دباؤ کچھ ایشیائی نژاد برطانوی خواتین کو اس امر پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بھارت جائیں اور اسقاطِ حمل کروا لیں۔ ایسی ہی ایک خاتون مِینا ہیں(شناخت خفیہ رکھنے کو نام تبدیل کیا گیا ہے)۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایسا کیا ہوا جو انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔

’جیسے ہی آپ حاملہ ہوتی ہیں سب آپ کے پاس آ کر بیٹھتے ہیں، آپ سے باتیں کرتے ہیں اور لگاتار ایک ہی بات کہتے ہیں: تمہارے یہاں بیٹا ہی پیدا ہوگا، ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے،خوشیاں منائیں گے وغیرہ وغیرہ‘۔اور جب بچہ دنیا میں آتا ہے اور وہ ایک لڑکی ہوتی ہے تو سب مایوس ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں’چلو کوئی بات نہیں‘۔

مینا ایک مڈل کلاس پنجابی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں جو کہ برطانیہ میں ہی پیدا ہوئیں اور یہیں پلی بڑھیں۔ ان کی تیرہ برس سے کم عمر کی تین بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ بیٹے کو جنم نہ دینے پر انہیں ناکامی کا احساس دلایا جاتا ہے۔

مینا کہتی ہیں کہ بھارتی معاشرہ اور ثقافت میں بیٹے کی پیدائش کے حوالے سے خواتین پر بے حد دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ جہاں ایک جانب خاندان کا نام چلتا رہے وہیں لڑکیاں بہت ’مہنگی‘ ثابت ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ دباؤ ہے جو برطانیہ میں رہنے والی بھارتی خواتین کو بھی سہنا پڑتا ہے۔’یہ سب خاوند پر منحصر ہے کیونکہ عام طور پر لڑکی پر سسرال والے ہی دباؤ ڈالتے ہیں‘۔

چنانچہ گزشتہ برس جب مینا چوتھی مرتبہ حاملہ ہوئیں تو انہوں نے اپنے خاوند کے ساتھ بھارت جانے کا منصوبہ بنایا تاکہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کی جنس معلوم کر سکیں۔’ ہم پریشان تھے کہ اگر اس بار بھی لڑکی ہوئی تو کیا ہوگا۔ کیونکہ اس کا اثر خاندان والوں پر بھی ہونا تھا اس لیے سا مرتبہ ہم نے جاننے کا فیصلہ کیا‘۔

مینا نے انٹرنیٹ پر بھارت کے بہترین گائنا کولوجسٹس کو تلاش کیا۔’جب ہم نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ہماری پہلے ہی تین بیٹیاں ہیں تو ان کے رویے سے لگا کہ وہ ہمارا مسئلہ سمجھتے ہیں‘۔

دلّی میں ٹیسٹ کے بعد مینا اور اس کے خاوند کو پتہ چلا کہ یہ ایک اور لڑکی ہے جس پر دونوں نے اسقاط کا فیصلہ کر لیا۔’ میرے لیے ذاتی طور پر یہ بہت پریشان کن تھا۔ میں اپنی دوسری بچیوں کو بتانا نہیں چاہتی تھی۔ میرے خیال میں مجھے اس لیے برا لگا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اور جس وجہ سے میں کر رہی تھی وہ بھی کچھ اچھی نہیں تھی‘۔

بھارت میں ’فیمیل فیٹسائیڈ‘ ایک جرم ہے

بھارت میں ’فیمیل فیٹسائیڈ‘ کو1980 کے اوائل میں غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے اور وہاں جنس جاننے کے لیے سکین کروانا بھی خلافِ قانون ہے۔ لیکن اس قانون سے فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اسقاظ حملے کے یہ معامےاب چھپ کر ہوتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اب بھی بھارت میں ہر برس ساڑھے سات لاکھ بچیاں رحمِ مادر میں ہی ہلاک کردی جاتی ہیں۔

اور اب یہ بات سامنے آئی ہیں کہ برطانیہ میں مقیم بھارتی خواتین اب اس کام کے لیے بھارت کا رخ کر رہی ہیں۔ مینا کا کہنا ہے کہ اس عمل میں وہ اکیلی نہیں۔ وہ ایسی دیگر عورتوں کو بھی جانتی ہیں جنہوں نے اسقاطِ حمل کروایا ہے تاہم یہ موضوع ایک شجرِ ممنوعہ ہے۔

مینا کے لیے زندگی یوں بھی مشکل ہے کہ اس کی بھابھی نے بیٹوں کو جنم دیا ہے اور ایک پنجابی خاندان میں اکثر عزت کا معیاراولاد کی تعداد پر ہوتا ہے۔ مینا کا کہنا ہے کہ’ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ مجھ پر اس حوالے سےدباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اگر وہ کر سکتی ہے تو میں کیوں نہیں؟۔

مینا کی اپنی چار بہنیں ہیں اور مینا کے خیال میں وہ بھی بسا اوقات یہ سوچتی ہیں کہ’ان کی ماں بھی ایسی ہی تھی‘۔

مینا کہتی ہیں کہ’یہ واقعی اچھا احساس نہیں کہ جب آپ نے ایک بچی کو جنم دیا ہو اور آپ کو اس پر فخر ہو تو وہ(اہلِ خانہ) مڑیں اور اسے ایک غلطی قرار دے کر مسترد کر دیں‘۔

مینا کا کہنا ہے کہ’میرے نزدیک میں اپنی بیٹیوں پر کبھی یہ دباؤ نہیں ڈال سکتی لیکن ان کی بھی شادیاں ہونی ہیں اور کون جانے کہ انہیں کس قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے‘۔

مینا کو اسقاط کروائے ایک برس کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اسے آج بھی خیال آتا ہے کہ کہ اگر وہ بچی پیدا ہوتی تو کیسی ہوتی۔’ مجھے پچھتاوا ہوتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں میری وہ بچی میری زندگی کا حصہ نہ بن سکی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد