انڈیا: بچیوں کے جنین کا اسقاط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پولیس نے رحم مادر میں مبینہ طور پر لڑکیوں کے جنین کو ضائع کرنے والے کلینک کے ایک مالک کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری دلی سے متصل ریاست ہریانہ کے ایک گاؤں میں چھاپہ کے بعد عمل میں آئی ہے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ کلینک کے پاس ہی ایک کنویں سے کئی جنین کے باقیات برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق کلینک کے مالک ڈاکٹر اے کے سنگھ پر کئی مقدمات درج ہیں لیکن ان کے بیٹے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ بیس برسوں میں دس لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کو پیدائش کے بعد یا اس سے پہلے ہی رحم مادر میں ختم کر دیا گيا۔ بھارت میں روایتی طور پر نسبتاً لڑکوں کو تر جیح دی جاتی ہے اسی لیے رحم مادر میں جنس کی تشخیص پر پابندی عائد ہے۔ گڑگاؤں ضلع کے چیف میڈیکل افسر ایس ایس دلال نے بتایا کہ کلینک میں غیر قانونی طور جنین کو ضائع کرنے کی شکایت ملی تھی جس کے بعد کارروائی کی گئی ہے۔’ہمیں اسقاط کی گئی بچیوں کی کھوپڑیاں اور ہڈیاں ملی ہیں جنہیں فورنزک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے‘۔ کلینک پر علاج کے بہانے چھاپہ مارنے والی طبی ماہرین کی ایک ٹیم کی ایک رکن نے مریض بننے کا بہانہ کیا تھا۔ افسران کا کہنا ہے کہ ابھی مزید ایسے جنین ملنے کی توقع ہے۔
مسٹر دلال نے بی بی سی کوبتایا: ’اے کے سنگھ سند یافتہ ڈاکٹر نہیں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی مدد سے، جو ایک قابل نرس ہیں اسقاطِ جنین کیا کرتے تھے‘۔ افسران کے مطابق ڈاکٹر سنگھ کے پاس الٹرا ساؤنڈ ٹیسٹ کے لیے لائسنس بھی نہیں ہے جو عام طور پر رحم مادر میں جنس کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں راجستھان: لڑکوں کے مقابلےمیں لڑکیاں کم23 May, 2007 | انڈیا اسقاطِ حمل: 28 ڈاکٹروں پر پابندی16 May, 2007 | انڈیا انڈیا: زندہ والدین کی یتیم بیٹیاں18 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||