راجستھان: لڑکوں کے مقابلےمیں لڑکیاں کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں لڑکیوں کی گھٹتی ہوئی تعداد سے پریشان جین مذہب کی خواتین رحم مادر میں بچیوں کے قتل کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ جین خواتین کی اس مہم کو جین سادھوؤں اور سرکردہ شخصیات جیسے مہم چلانے والوں کو جین مذہبی لیڈروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان ’اشلکوں اور منتروں‘ (مذہبی آیات) میں تبدیلی کی جائے گی جن میں ’بیٹوں‘ کو بیٹیوں پر فوقیت دی گئی ہے۔ اور ان اشکوک کو شادی بیاہ جیسی تقریبات کے دوران پڑھا جائے گا تاکہ لڑکیوں کی اہمیت بیان کی جا سکے۔ آل انڈیا جین تیراپنتھ مہیلا منڈل کی سربراہ سیار بینگانی کا کہنا ہے: ’موجودہ ٹرینڈ پریشان کن ہے۔ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ ہماری برادری میں لڑ کوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے، ہمارے یہاں ہر ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں صرف آٹھ سو ستر عورتیں ہیں‘۔ مہیلا منڈل نے جے پور میں ایک پروگرام منعقد کیا اور رحم مادر میں بچیوں کے قتل سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کی جس کے تحت خواتین کارکن انفرادی طور پر لوگوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح پرورش کریں۔ مہیلا منڈل کی ایک رکن کنتا مالو کہتی ہیں: ’ہم لوگ ایک کامیاب برادری ہیں لیکن جنسی تناسب میں بڑھتے فرق نے عورتوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں‘۔
سکھ برادری پہلے ہی اس طرح کا قدم سری گنگا نگر ميں اٹھا چکی ہے جہاں سکھوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔گرودوار سری گنگا نگر کے سربراہ تیجندر پال سنگھ ٹیما کا کہنا ہے: ’ہم لوگوں نے بہت سارے سمینار، سنگت اور ریلیاں نکالیں اور لڑکیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے‘۔ ان کا مزيد کہنا تھا:’ہماری مذہبی روایات کے مطابق ہم لوگوں کا نعرہ تھا ’کڑی مار نو دوستی نہی‘ یعنی لڑکیوں کو قتل کرنے والوں سے کوئی رشتہ نہیں‘۔ اس مہم میں راجپوت برادری کی خواتین گروپ کی لیڈر پریما کمار کا کہنا ہے کہ راجپورت برادری میں اس مہم کا فائدہ ہوا ہے: ’بھول جائیں کہ ماضی میں کیا ہوا اور حال کا مشاہدہ کریں، آج بڑی تبدیلی ہوئی ہیں اور آج راجپوت اپنی لڑکیوں کی لڑکوں کی طرح پرورش کرتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ سات سال پہلے جیسلمیر کے گاؤں دیورا میں سو سال کے بعد لوگوں نے بارات کا استقبال کیا۔ اس گاؤں میں راجپوتوں کی بڑی تعداد ہے اور آج اس گاؤں سے درجنوں لڑکیاں سکول جارہی ہیں‘۔ مسلم ویلفئر سوسائٹی کی نشاط حسین کا کہنا ہےکہ مسلمانوں میں رحم مادر میں لڑکیوں کو قتل نہیں کیا جاتاہے لیکن دوسری پریشانیاں ہیں۔ ہمارے نبی کا کہناہے جن کی دو بیٹیاں ہیں وہ جنت کا حقدار ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں میں اور طرح کی پریشانیاں ہیں۔ خیال ر ہے کہ راجستھان میڈیکل کونسل نے رحم مادر میں بچیوں کے قتل اور جنسی تشخص کے معاملے میں ملوث ہونے کے الزام ميں اٹھائیس ڈاکٹروں کی پریکٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ریاست میں بارہ ہزار رجسٹرڈ الٹراساونڈ مشینیں ہیں اور خاتون تنظیموں کا الزام ہے کہ بڑي تعداد میں مشینوں کی دستیابی کے سبب اس کا غلط استعمال ہوتا ہے اور رحم مادر میں جنس کی پہچان کر کے اسقاط حمل کیا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’فیمیل فیٹی سائڈ‘، ڈاکٹر معطل14 June, 2006 | انڈیا اسقاطِ حمل: 28 ڈاکٹروں پر پابندی16 May, 2007 | انڈیا انڈیا: زندہ والدین کی یتیم بیٹیاں18 February, 2007 | انڈیا کشمیر میں بیٹوں سے بیٹیاں اچھی26 March, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||