’فیمیل فیٹی سائڈ‘، ڈاکٹر معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان میں مبینہ طور پر بچیوں کے جنین کو رحمِ مادر میں ضائع کرنے کے الزام میں بعض سرکاری ڈاکٹروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ریاستی وزارتِ صحت نے جونیئر ڈاکٹروں کو بھی معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔ حکام نے اب تک سات سرکاری ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے جبکہ صحت کے ریاستی وزیر ڈاکٹر دگمبر سنگھ نے مزید دو جونیئر ڈاکٹروں کو معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔ یہ کارروائی ایک نجی ٹیلیویژن چینل کے’سٹنگ آپریشن‘ کے بعد انجام دی گئی ہے۔ راجستھان میں خفیہ کیمرے کے ذریعے کی گئی ریکارڈ نگ میں بچیوں کی پیدائش سے قبل ہی انہیں ہلاک کرنے کے واقعات دکھائے گئے تھے۔ جے پور پولیس نے اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث اکیس ڈاکٹروں کے خلاف شکایات درج کی تھیں۔ مذکورہ ڈاکٹروں نے ان تمام الزامات کو غلط قرار دیا ہے اور اسے ایک سازش کا نتیجہ بتایا ہے۔ ریاست کے خاندانی منصوبہ بندی ادارے کے ڈائریکٹر ایس پی یادو کا کہنا ہے کہ’اب تک سینتیس ڈاکٹروں کے خلاف اس قسم کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیشی اہلکاروں کو ان ’ لیبارٹریز‘ اور ہسپتالوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن میں ’الٹرا ساؤنڈ‘ کی مشینيں موجود ہیں۔ ’الٹرا ساؤنڈ‘ مشین کی مدد سے ہی یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ رحمِ مادر میں لڑکا ہے یہ لڑکی۔ تازہ عداد شمار کے مطابق راجستھان میں اوسطاً ایک ہزار لڑکوں کے نسبت لڑکیوں کی تعداد نو سو بائیس ہے لیکن دھولپور، جیسلمیر اور مادھو پور جیسے بعض اضلاع میں ایک ہزار لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی تعداد محض آٹھ سو کے قریب ہی ہے۔ | اسی بارے میں راجستھان: ڈاکٹروں کیخلاف تحقیقات 16 May, 2006 | انڈیا لڑکا چاہیے: ایک کروڑ لڑکیاں ہلاک09 January, 2006 | انڈیا ’طبی جریدے کی رپورٹ غلط ہے‘11 January, 2006 | انڈیا ’لڑکیوں کے جنین کو ضائع نہ کریں‘13 November, 2005 | انڈیا الٹراساؤنڈ اور جنسی ہلاکتیں22 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||