اسقاطِ حمل: 28 ڈاکٹروں پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی اسقاط حمل کے الزام میں اٹھائیس ڈاکٹروں کی پریکٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ راجستھان میڈیکل کونسل کے سینئر اہلکار سنجے شرما کا کہنا ہے کہ فیصلہ ایک تفتیش کے بعد کیا گیا ہے۔ ریاست میں سرگرم خواتین تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ پابندی کے باوجود بھی ڈاکٹر اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان کا مطالبہ کے ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ میڈیکل کونسل کے مطابق ڈاکٹروں پر پابندی آئندہ چھ ماہ تک جاری رہے گی۔ کونسل کا کہنا ہےاگر معاملے کی تفتیش مکمل ہونے میں زیادہ وقت لگا ہے تو پابندی کی معیاد بڑھائی جا سکتی ہے ۔ جن ڈاکٹروں پر الزامات ہیں ان میں سات سرکاری ہسپتالوں سے وابستہ ہیں۔ گزشتہ برس بھی میڈیکل کونسل نے اسی طرح کے الزامات کے تحت ڈاکٹروں پر پابندی عائد کی تھی۔ ڈاکٹروں پر الزام تھا کہ وہ جنسی شناخت کے بعد اسقاطِ حمل کرتے رہے تھے۔ اسی الزام کے تحت مزید بارہ ڈاکٹروں کے خلاف کونسل کی تحقیقات جاری ہیں۔ ممتاز خواتین کارکن کویتا سرواستوا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی دراصل ایک فریب ہے۔ ’ کارروائی کا عمل بہت سست ہے اور ہمارہ مطالبہ ہے کہ ان ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں‘۔
راجستھان میں خواتین گروپ رحم مادر میں بچیوں کے قتل کے خلاف ایک عرصے سے مہم چلا رہی ہیں۔ خواتین کے ان گروپوں کے مطابق ریاست میں الٹرا ساؤنڈ کی بارہ سو سے زیادہ ایسی مشینیں ہیں جن کے ذریعے رحم مادر میں پرورش پاتے بچے کی جنس کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل نے ریاست میں بچیوں کو رحم مادر میں مارنے میں ڈاکٹروں کے ملوث ہونے کی خبر نشر کی تھی۔ اس خبر کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا اور اکیس ڈاکٹروں کے خلاف کیس درج کیے گئے۔ ریاست راجستھان میں مردوں کے مقابلے عورتوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی تکنیک کے سبب بچیوں کو پیدا ہونے سے قبل ہی قتل کیے جانے کے معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہندوستان میں ہریانہ، بہار، پنجاب، دلی ایسی ریاستیں ہیں جہاں بچیوں کو پیدائش سے پہلے ہی مارنے کے معاملات عام ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے سبب ان ریاستوں میں مردوں کی نسبت عورتوں کی تعداد روز بروز کم ہورہی ہے۔ |
اسی بارے میں دیر ہو گی تو لڑکا ہو گا16 December, 2005 | نیٹ سائنس سری لنکا: بےبی 81 کی واپسی29 January, 2005 | آس پاس ایک بچہ نو مائیں14 January, 2005 | آس پاس اسقاط حمل کرانے والیوں کے لیے معافی 08 November, 2004 | صفحۂ اول اسقاط حمل پر بنائی گئی فلم نمبر ون12 September, 2004 | فن فنکار اسقاط حمل کےحق میں لاکھوں کامظاہرہ 26 April, 2004 | صفحۂ اول اسقاط حمل مخالف کوموت04.09.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||