اسقاط حمل کےحق میں لاکھوں کامظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں لاکھوں افراد نے ایک مارچ میں حصہ لیا جو منتظمین کے بقول امریکہ میں گزشتہ دس برس کے دوران اسقاط حمل کے حق میں کیا گیا سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔ مظاہرے میں شامل افراد میں بیشتر خواتین تھیں جن میں سے ایک بڑی تعداد دنیا کے تقریباً ساٹھ مختلف ممالک سے صدر بش کی پالیسی کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرنے یہاں پہنچیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ صدر بش نے اسقاط حمل کے حق کو نہ صرف امریکہ بلکہ بیرون امریکہ بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے برعکس اسقاط حمل کے خلاف بھی ہزاروں مظاہرین نے واشنگٹن میں ریلیاں نکالیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کا مسئلہ امریکہ میں اس برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں خاصی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صدارتی انتخابات میں صدر بش کے حریف سینیٹر جان کیری اسقاط حمل کے سلسلے میں خواتین ہی کو حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز گردانتے ہیں۔ حکام نے مظاہرین کی تعداد کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے البتہ بعض اطلاعات کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے اس مظاہرے میں شرکت کی۔
مارچ کے منتظمین میں امریکہ کی شہری آزادی کی یونین اور پلینڈ پیرنٹ ہُڈ فیڈریشن شامل ہیں۔ امریکی سینیٹر ہیلری کلنٹن نے کہا کہ صدر بش کی انتظامیہ میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو سپریم کورٹ کی طرف سے اسقاط حمل کو جائز قرار دینے کے فیصلے کو ’انتہائی قابلِ نفرت قانونی اقدام‘ گردانتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||