خدیجہ عارف بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 | | | 25 فی صد خواتین کی اموات پیدائش سے ہونے والی پیچیدگیوں کے سبب ہوتی ہیں |
ہندوستان میں ہر روز تین سو عورتیں حمل اور زچگی کے دوران ہلاک ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق ادارے یو این ایف پی کے مطابق سماج میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے سبب بچے کی پیدائش کے دوران معقول طبی علاج نہ ہونے کے سبب ان اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس برس گیارہ جولائی یعنی عالمی یوم آبادی کے موقع پر یو این ایف پی اے نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں حاملہ خواتین کی دیکھ بھال میں مردوں کی حصہ داری کو اہم موضوع بنایا گیا ہے۔ ہندوستان میں یو این ایف پی کی سربراہ اینا سنگھ کا کہنا ہے: ’ملک میں اگر خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران ہونے والی اموات سے بچانا ہے تو مرد اور خواتین کو فیملی پلاننگ میں برابری کی حصہ دار بنایا جائے۔ خواتین کو دوران حمل جذباتی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ پیدائش کے وقت انہیں صحیح وقت پر اسپتال لے جایا جائے اور خواتین پر لڑکا پیدا کرنے کا دباؤ پوری طرح ختم کیا جانا جانا چاہیۓ۔‘ اینا سنگھ کا خيال ہے کہ ہندوستانی سماج میں آج بھی لڑکیوں کو لڑکوں سے کم سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں کم غذائیت کا شکار ہوتی ہیں۔ شادی کے بعد سماج میں ان پر لڑکا پیدا کرنے کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے اس لیے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی حمل کا اسقاط کرنے کے لیے آپریشن کراتی ہیں جس سے ان کی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے اور نتیجتاً ان کی موت ہوجاتی ہے۔  |  ہندوستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک عورت دوران حمل ہونے والی پیچیدگیوں کے سبب مرتی ہے اور ہر پانچ منٹ میں کم از کم 35 خواتین کے حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے معاملات سامنے آتے ہیں۔  اقوام متحدہ کی رپورٹ |
دلی میں واقع پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں زچگی کے دوران ہونے والی 90 فی صد اموات ترقی پزیر ممالک میں ہوتی ہیں اور ایک فی صد اموات ترقی یافتہ ممالک ميں ہوتی۔ ’ہندوستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک عورت دوران حمل ہونے والی پیچیدگیوں کے سبب مرتی ہے اور ہر پانچ منٹ میں کم از کم 35 خواتین کے حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے معاملات سامنے آتے ہیں۔‘ رپورٹ کے مطابق 25 فی صد خواتین کی اموات دوران حمل بچہ کی پیدائش سے ہونے والی پیچیدگیوں کے سبب ہوتی ہیں۔ 50 فی صد اموات پیدائش کے بعد 24 گھنٹے کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں کے سبب ہوتی ہیں۔ 20 فی صد اموات بچے کے پیدا ہونے کے سات دن بعد اور پانچ فی صد بچہ پیدا ہونے کے دو سے چھ ہفتے بعد ہوتی ہیں۔ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے سینئر مشیر الماس علی کا کہنا ہے کہ’دوران حمل خواتین کی اموات تبھی کم ہوسکتی ہے جب ان کو سماج میں برابری کی حصہ داری ملے۔ عورتوں کو اپنی صحیح عمر میں شادی کرنے کی آزادی ہو، لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع حاصل ہوں اور خواتین کو بھی خاندان منصوبہ بندی میں برابری کا حق ملے۔‘ یو این ایف پی اے کی اینا سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں حالیہ دنوں میں نہ صرف دیہاتوں بلکہ شہروں میں بھی لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے مارنے کے معاملات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ خواتین پر لڑکی پیدا کرنے کے بڑھتے دباؤ کے سبب زچگی کے دوران اور حمل کے دوران اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ اینا سنگھ کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ ملکر یو این ایف پی اے اور ديگر غیرسرکاری تنظيمیں ایسے پروگرامز شروع کرنے والی ہیں جس کے سبب مرد خواتین کو زچگی کے دوران تعاون فراہم کریں اور خاندانی منصوبہ بندی میں مرد اور عورتوں کو برابر کا حق حاصل ہو۔ |