آبادی کے لحاظ سے انوکھا گاؤں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مغربی ریاست راجستھان کےایک گاؤں میں لوگ خاندانی منصوبہ بندی پر اس طرح عمل پیرا ہیں کہ گزشتہ پینتیس برسوں سے گاؤں کی آبادی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ سنہ انسیس سو اکہتر سے گاؤں کی آبادی محض دوسو بانوے افراد پر ہی رکی ہوئی ہے۔ ضلع چتوڑ گڑھ میں گاؤں جاٹوں کا کھیڑا کے سابق سر پنچ رامیشور جاٹ کا کہنا ہے کہ’دو عشرے قبل گاؤں والوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور تبھی سے لوگوں نے اس پر سختی سے عمل کرنے کا فیصلہ کیا، اب گاؤں میں کسی کے پاس دو سے زیادہ بچے نہیں ہیں چاہے لڑکا ہو یا لڑکی‘۔ بھارت میں آبادی پر قابو پانے کے لیے جو مہم چلائی گئی تھی اس کا ایک نعرہ تھا ’ ہم دو ہمارے دو‘ اور اس نعرہ پر اس گاؤں سے زیادہ عمل شاید ہی کسی دوسرے علاقے میں ہوا ہو۔ رامویشور جاٹ کہتے ہیں’میرا صرف ایک بیٹا ہے اور ہمارے یہاں لڑکا لڑکی کا کوئی امتیاز نہیں ہے‘۔ لیکن گاؤں والوں کو شکایت ہے کہ اس کا بہتر بدلا ملنے کے بجائے انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ گوپال جاٹ کہتے ہیں کہ انتظامیہ کی طرف سے جو بھی ترقیاتی منصوبہ بندی ہوتی ہے وہ آبادی کے پیش نظر کی جاتی ہے۔’چونکہ ہماری آبادی کم ہے اس لیے لوگ سڑکیں بنوانے اور دوسرے ترقیاتی پروگرام کرنے میں ہمیں نظر انداز کرتے ہیں‘۔ اس گاؤں میں ایک کمرے کا سرکاری سکول ہے اور گاؤں والے اس سے اچھے سکول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ علاقے کے ڈویثرن آفیسر رام چندر کا کہنا ہے کہ انہیں گاؤں کے متعلق جانکاری ملی ہے اور وہ اس کی ترقی کے لیے اقدامات کریں گے۔ انیس سو اکہتر سے اس گاؤں کی آبادی میں اتار چڑھاو آئے ہیں لیکن آبادی پر قابو رہا ہے۔ انیس سو اکیاسی میں 274 لوگ تھے، اکیانوے میں 269 اور دوہزار ایک سے 296 لوگ ہیں۔ اس سے آس پاس کے گاؤن والوں کو بھی ترغیب ملی ہے اور اب ان میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی ہے کہ ، کھیتی اور پانی جیسے قدرتی وسائل کی کمی ہو رہی ہے اس لیے وہ بھی ہم دو ہمارے دو پر عمل پیرا ہونے کی کوشش میں ہیں۔ | اسی بارے میں راجستھان کے تین’ گاف‘ 18 April, 2004 | انڈیا مونا باؤ، کھوکھرا پار ریل چلے گی؟26 November, 2004 | انڈیا راجستھان: 38 دیہاتوں کو خطرہ07 July, 2007 | انڈیا مذاکرات، لیکن حالات کشیدہ 31 May, 2007 | انڈیا وسندھرا سندھیا کے دیوی روپ پرتنازعہ17 April, 2007 | انڈیا ویزے کے بغیر پاکستانی اجمیر میں02 December, 2006 | انڈیا پاکستانی ہندوؤں کا بھارت میں احتجاج17 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||