پاکستانی ہندوؤں کا بھارت میں احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں سکونت اختیار کرنے والے پاکستانی ہندوؤں نے بھارتی حکومت کی طرف سے بھارتی شہریت کی درخواست کے لیے فیس میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت کی حکومت نے بھارت کی شہریت حاصل کرنے کے لیے فیس میں قابل ذکر اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کی تنظیم وستھاپت سنگھ کے ایک ترجمان نے کہا کہ بھارت کی ریاست راجستھان میں تقریباً پاکستان سے تعلق رکھنے والے پندرہ ہزار ہندؤ موجود ہیں اور جن کی قسمتوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں زیادہ تر غریب لوگ ہیں اور اتنی فیس ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ان لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس نئی فیس کے ساتھ درخواست نہیں دیں گے اور اس کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ زیادہ تر لوگ بھارت میں مذہبی تشدد کے خوف سے وہ ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بھارت کی حکومت نے حال ہی میں پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کو بھارت کی شہریت دینے کے لیے متعلقہ قوانین میں تبدیلی کی ہے جس کے تحت بھارت میں پانچ سال سے مقیم ہندؤں شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||