’ابورشن خواتین کی اجازت کے بعد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں خواتین اور بچوں کی بہبود کی مرکزي وزیر رینکا چودھری نے حاملہ خواتین کے لیے رجسٹریشن اور اسقاط حمل کے لیے خواتین کی اجازت لینے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ رینکا چودھری کہ کہنا ہے کہ اس سے فیمیل فیٹاسائڈ یعنی رحم مادر میں لڑکی ہونے پر اسقاط حمل کروانے پر روک لگانے میں مدد ملے گی۔ یوں تو ہندوستان میں پیدائش سے قبل بچے کے جنس کے بارے معلوم کرنا غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے مختلف علاقوں سے فیمیل فیٹاسائڈ کے واقعات ہوتے رہے ہيں۔ رینیکا چودھری کا کہنا ہے کہ بعض اہم حالات میں سرکار کی جانب سے عورتوں کو اسقاط حمل کی اجازت دینے کی گنجائش دی جانی چاہیے لیکن انہوں نے ان خصوصی حالات کی وضاحت نہیں کی۔ ماہرین نے اس تجویز کا غلط استمعال کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے 927 لڑکیاں ہيں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس برسوں ميں اسقاط حمل کے ذریعے تقریبا ایک کروڑ بچیوں کو مار ڈالا گیا ہے۔ مسلسل لڑکی پیدا ہونے پر ماں باپ الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے رحم مادر ميں بچے کا جنس کا پتہ لگواتے ہيں اور پھر لڑکی ہونے پر رحم مادر ميں ہی اسے مار ڈالتے ہیں۔ تیرہ برس قبل پی این ڈی ٹی ایکٹ یعنی پری نیٹل سیکس ڈٹرمنیشن ایکٹ آنے کے باوجود حکومت فیمیل فیٹاسائڈ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ |
اسی بارے میں انڈیا: بچیوں کے جنین کا اسقاط15 June, 2007 | انڈیا ’فیمیل فیٹی سائڈ‘، ڈاکٹر معطل14 June, 2006 | انڈیا راجستھان: ڈاکٹروں کیخلاف تحقیقات 16 May, 2006 | انڈیا بچے کی جنس بتانے پرپہلی بار سزا29 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||