BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 July, 2007, 20:33 GMT 01:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ابورشن خواتین کی اجازت کے بعد‘
قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے 927 لڑکیاں ہيں
ہندوستان میں خواتین اور بچوں کی بہبود کی مرکزي وزیر رینکا چودھری نے حاملہ خواتین کے لیے رجسٹریشن اور اسقاط حمل کے لیے خواتین کی اجازت لینے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔

رینکا چودھری کہ کہنا ہے کہ اس سے فیمیل فیٹاسائڈ یعنی رحم مادر میں لڑکی ہونے پر اسقاط حمل کروانے پر روک لگانے میں مدد ملے گی۔

یوں تو ہندوستان میں پیدائش سے قبل بچے کے جنس کے بارے معلوم کرنا غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے مختلف علاقوں سے فیمیل فیٹاسائڈ کے واقعات ہوتے رہے ہيں۔

رینیکا چودھری کا کہنا ہے کہ بعض اہم حالات میں سرکار کی جانب سے عورتوں کو اسقاط حمل کی اجازت دینے کی گنجائش دی جانی چاہیے لیکن انہوں نے ان خصوصی حالات کی وضاحت نہیں کی۔

ماہرین نے اس تجویز کا غلط استمعال کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے 927 لڑکیاں ہيں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس برسوں ميں اسقاط حمل کے ذریعے تقریبا ایک کروڑ بچیوں کو مار ڈالا گیا ہے۔ مسلسل لڑکی پیدا ہونے پر ماں باپ الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے رحم مادر ميں بچے کا جنس کا پتہ لگواتے ہيں اور پھر لڑکی ہونے پر رحم مادر ميں ہی اسے مار ڈالتے ہیں۔

تیرہ برس قبل پی این ڈی ٹی ایکٹ یعنی پری نیٹل سیکس ڈٹرمنیشن ایکٹ آنے کے باوجود حکومت فیمیل فیٹاسائڈ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

زچگی اور اموات
انڈیا میں 300 عورتیں روزانہ ہلاک
راجستھان کا ایک گاؤں انوکھاگاؤں
راجستھان:35 سال سے آبادی نہیں بڑھی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد