BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 00:44 GMT 05:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی سفارتکار، عراق جبری تعیناتی
عراق میں امریکی سفارت خانہ
بغداد کے محفوظ علاقے گرین زون کے باہر بھی حملے ہوتے رہے ہیں
واشنگٹن میں سفارتکاروں کے ایک اجلاس کے شرکا نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں اگلے برس بغداد اور عراق کے دوسرے شہروں میں امریکی سفارت خانوں میں خالی ہونے والے اڑتالیس عہدوں کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

ان سفارتکاروں کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں عراق میں ذمہ داریاں سنبھالنا ہیں یا نہیں۔ اگر رضاکارانہ طور پر سفارتکار سامنے نہ آئے تو پھر انہیں جبراً عراق میں امریکی سفارتحانوں میں تعینات کر دیا جائے گا اور انکار کرنے والوں کو ملازمت سے برخواست کر دیا جائےگا۔ البتہے طبی بنیادوں پر کوئی خاص ذاتی وجہ سے انکار کرنے والوں کی ملازمت بچ جائے گی۔

اجلاس میں موجود ایک سفارتکار نے کہا کہ جنگ زدہ ملک میں زبردستی تعیناتی کا مطلب ہے کہ آپ ایک سفارتکار کو ایک لحاظ سے سزائے موت سنا رہے ہیں۔

ان سفارتکاروں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ انہیں اس منصوبے کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا ہے۔

پچھلے چند ماہ سے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس اس بات کا اشارہ دے رہی تھیں کہ سفارتکاروں کی طرف سے عراق میں رضاکارانہ طور پر تعیناتی کے لیے پیش کش نہ ہونے کی وجہ سے جبراً تعیناتی کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ مگر سفارتکاروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں جرات مند سفارتکاروں کی کمی نہیں ہے البتہ عراق میں سفارت خانے میں بڑھتے ہوئے کام کی وجہ سے عملے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد