امریکی سفارتکار، عراق جبری تعیناتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں سفارتکاروں کے ایک اجلاس کے شرکا نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں اگلے برس بغداد اور عراق کے دوسرے شہروں میں امریکی سفارت خانوں میں خالی ہونے والے اڑتالیس عہدوں کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ ان سفارتکاروں کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں عراق میں ذمہ داریاں سنبھالنا ہیں یا نہیں۔ اگر رضاکارانہ طور پر سفارتکار سامنے نہ آئے تو پھر انہیں جبراً عراق میں امریکی سفارتحانوں میں تعینات کر دیا جائے گا اور انکار کرنے والوں کو ملازمت سے برخواست کر دیا جائےگا۔ البتہے طبی بنیادوں پر کوئی خاص ذاتی وجہ سے انکار کرنے والوں کی ملازمت بچ جائے گی۔ اجلاس میں موجود ایک سفارتکار نے کہا کہ جنگ زدہ ملک میں زبردستی تعیناتی کا مطلب ہے کہ آپ ایک سفارتکار کو ایک لحاظ سے سزائے موت سنا رہے ہیں۔ ان سفارتکاروں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ انہیں اس منصوبے کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا ہے۔ پچھلے چند ماہ سے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس اس بات کا اشارہ دے رہی تھیں کہ سفارتکاروں کی طرف سے عراق میں رضاکارانہ طور پر تعیناتی کے لیے پیش کش نہ ہونے کی وجہ سے جبراً تعیناتی کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ مگر سفارتکاروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں جرات مند سفارتکاروں کی کمی نہیں ہے البتہ عراق میں سفارت خانے میں بڑھتے ہوئے کام کی وجہ سے عملے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ | اسی بارے میں امریکی سفارتکار، زمینی سفرپر پابندی19 September, 2007 | آس پاس عراق میں امریکی سفارتکار ہلاک 24 October, 2004 | آس پاس بغداد میں’روسی سفارتکار ہلاک‘03 June, 2006 | آس پاس عراق میں ایرانی سفارتکار ہلاک15 April, 2004 | آس پاس عراق:’شہریوں پر فائرنگ بلاجواز‘08 October, 2007 | آس پاس تین شہری نیٹو فوج کا نشانہ: حکام07 October, 2007 | آس پاس شہریوں پر حملہ، تحقیقات ہوں گی18 September, 2007 | آس پاس ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک30 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||