’نجی محافظوں کو تحفظ دیدیا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کے تفتیشی شعبے نے عراق میں شہریوں کی ہلاکتوں کے مبینہ ذمہ دار اہلکاروں کو ’محدود تحفظ‘ فراہم کر دیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس تحفظ کے تحت اگر سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے اہلکار حکام کو صاف صاف بتا دیں کہ کیا ہوا تھا، ان پر مقدمہ نہیں چل سکتا۔ رپورٹ کے مطابق کسی امریکی افسر نے کہا ہے کہ اگرچہ بلیک واٹر کو ہونے والی اس پیشکش کو سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے لیکن اس کے تحت بلیک واٹر سے منسلک اہلکاروں پر مقدمہ چلانا مشکل ہو جائے۔ اگر مذکورہ رپورٹ کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ اور عراق کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ سولہ ستمبر کو ہونے والے ہلاکت خیز واقعہ پر عراقی حکام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ فائرنگ کے ذمہ دار اہلکاروں کو عراق کے حوالے کیا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ بلیک واٹر کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے فائرنگ اپنے دفاع میں کی تھی۔ قانونی پیچیدگی
بیورو آف ڈپلومیٹک سکیورٹی دفتر خارجہ کا تفتیشی شعبہ ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ جب امریکی محکمۂ انصاف کو احساس ہوا کہ وہ بیورو آف ڈپلومیٹک سکیورٹی کے سامنے اہلکاروں کی بیانات کی بنیاد پر مقدمات قائم نہیں کر سکتا تو اس معاملے کی تفیتیش امریکی تفتیشی پولیس ایف بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی، لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ کچھ اہلکاروں نے ایف بی آئی کے تفتیش کاروں کے سوالوں کے جواب دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے کچھ افسروں نے کہا کہ انہیں اس بات پر شک ہے کہ بیورو آف ڈپلومیٹک سکیورٹی کے شعبے کے پاس زیر تفتیش اہلکاروں کو تحفظ کی کوئی پیشکش کرنے کا اختیار ہے بھی یا نہیں کیونکہ اس پیشکش کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔ قطع نظر اس پیشکش کی قانونی حیثیت کے، اگر یہ رپورٹ درست ہے کہ بیورو نے یہ پیشکش کی ہے تو اس سے اہلکاروں کے خلاف ممکنہ مقدمے قائم کرنے کا معاملہ پیچیدہ ہو جائےگا۔ فی الوقت اہلکاروں پر عراق میں مقدمات نہیں بنائے جا سکتے کیونکہ انہیں صدام حسین کا تختہ الٹے جانے کے بعد متعارف کرائی جانے والی ’عبوری اتحادی اتھارٹی‘ کے قانون نمبر سترہ کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
اسی طرح اگرچہ امریکی محکمۂ دفاع کے لیے کام کرنے والی پرائیویٹ کمپنیوں پر امریکی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے لیکن دفتر خارجہ کے لیے کام کرنے والی بلیک واٹر جیسی کمپنیوں پر اس قانون کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ بغداد میں سترہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر وزیر اعظم نوری المالکی نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا اور اسے ایک ’مجرمانہ فعل‘ قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ عراق کی وزارت داخلہ نے اپنی ایک تفتیش میں بلیک واٹر کے اہلکاروں کو ان ہلاکتوں کا سو فیصد ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ بلیک واٹر کے سربراہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے اہلکاروں نے فائرنگ جواب میں کی تھی۔ |
اسی بارے میں سکیورٹی آپریشن کامیاب ہورہا ہے:بش20 April, 2007 | آس پاس ’بلیک واٹر‘ کے خلاف تحقیقات23 September, 2007 | آس پاس امریکی فوج کا سکیورٹی پلان ناکام19 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||