طالبان پولیو مہم کے لیے راضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ نے افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار اور ہلمند میں پولیو کے قطرے پلانے کی بڑی مہم شروع کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق طالبان رہنماؤں نے ایک ہفتے کی اس مہم میں تیرہ لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کا احترام کرنے کا وعدہ کیا ہے اس مہم میں دس ہزار طبی کارکن حصہ لیں گے۔ افغانستان دنیا کے ان چار ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے گزشتہ برس افغانستان میں پولیو کے انتیس کیس سامنے آئے تھے جن میں زیادہ تر جنوبی افغانستان میں تھے۔ افغانستان میں پہلے بھی طبی عملے کو اغوا کیا جاتا رہا ہے اور شورش زدہ حالات کے سبب وہاں ہسپتالوں اور دوا خانوں کی تعمیر نہیں ہو سکی ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ طبی عملے کو اپنے فرائض انجام دینے کے لیے جنوبی افغانستان میں محفوظ راہداری فراہم کی جائے گی۔ قندھار میں یونیسیف کی ترجمان کیتھرین بینگو کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی طرح کے واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ہلمند صوبے میں طالبان اور بین الاقوامی افواج کے درمیان زبردست لڑائی کے بعد ایک سال سے زیادہ عرصے سے لوگوں کواس علاقے تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ یونیسیف کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیو کی مہم کے لیےطالبان کی حمایت انتہائی خوشی کی بات ہے۔ |
اسی بارے میں پولیو: افواہوں کے خلاف مہم21 April, 2007 | پاکستان اہلکاروں پر حملہ، پولیو مہم معطل08 August, 2007 | پاکستان ملاکنڈ اورمردان میں دھماکے 16 June, 2007 | پاکستان سوات میں پولیو مہم کامیاب28 June, 2007 | پاکستان پولیو کا خاتمہ: ابھی وقت لگے گا30 March, 2007 | پاکستان ہزاروں بچے ویکسین سے محروم رہے15 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||