اہلکاروں پر حملہ، پولیو مہم معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ محکمۂ صحت کے اہلکاروں پر حملے کے بعد علاقے میں پولیو ویکسین پلانے کی مہم معطل کر دی گئی ہے۔ باجوڑ کے ایجنسی سرجن سید چراغ حسین نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز چارمنگ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے محکمۂ صحت کی پولیو کے قطرے پلانے والی ایک ٹیم پر حملہ کر کے انہیں مارا پیٹا تھا جبکہ ان سے ویکسین کی بوتلیں بھی چھین لیں تھیں۔ ان کے مطابق اس واقعہ کے فوری بعد علاقے میں پولیو کی مہم معطل کردی گئی ہے۔ایجنسی سرجن کا کہنا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد پولیو ویکسین پلانے کی مہم دوبارہ شروع کی جائےگی۔ یاد رہے کہ باجوڑ میں اس سال فروری کے مہینے میں پولیو ویکسین کی مہم کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ایجنسی سرجن ڈاکٹر عبد الغنی کو ہلاک کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ قبائلی علاقوں اور سوات کے کچھ علماء کرام پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کی مہم کو صیہونی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعوٰی ہے کہ ویکسین پینے سے بچوں میں تولیدی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے تاہم طبی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ | اسی بارے میں سوات میں پولیو مہم کامیاب28 June, 2007 | پاکستان ملاکنڈ اورمردان میں دھماکے 16 June, 2007 | پاکستان پولیو: افواہوں کے خلاف مہم21 April, 2007 | پاکستان پولیو کا خاتمہ: ابھی وقت لگے گا30 March, 2007 | پاکستان قبائلی شخصیت، پولیو ٹیم پرحملے24 February, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دھماکہ، ڈاکٹر ہلاک16 February, 2007 | پاکستان ہزاروں بچے ویکسین سے محروم رہے15 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||