BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 September, 2007, 04:13 GMT 09:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سویڈن کے کارٹونسٹ کو تحفظ مل گیا
لارس ولکس
لارس ولکس خفیہ مقام پر منتقل کیے جانے سے پہلے
پیغمبر اسلام کا کارٹون بنانے والے سویڈن کے کارٹونسٹ نے کہا ہے کہ پولیس نے حفاظت کے پیشِ نظر انہیں کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

لارس ولکس نے کہا ہے کہ اختتامِ ہفتہ کے موقع پر جب وہ جرمنی سے واپس سویڈن آئے تو پولیس نے انہیں صرف چند ایک اشیاء اٹھانے کی مہلت ہی دی اور گھر سے کہیں لے گئی۔

’عراق میں القاعدہ‘ کےمبینہ سربراہ نے لارس ولکس کے قتل کے لیے انعام کی رقم مقرر کر رکھی ہے۔

انٹرنیٹ پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں ابو عمر البغدادی نام کے اس شخص کہا کہ ’اگر لارس ولکس کو قتل کیا گیا توایک لاکھ ڈالر کی رقم انعام میں دی جائے گی’ ساتھ ہی اخبار کے مدیر کو قتل کرنے کے لیے انعام کی رقم میں پچاس فیصد کا اضافہ کر دیا جائےگا‘۔

لارس ولکس نے کہا ہے کہ سویڈن کی پولیس سمجھتی ہے کہ ان کی جان کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔

کارٹون تنازعہ
کارٹون 18 اگست کو نیرکس الیہندہ نام کے اخبار میں شائع کیا گیا تھا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو ٹیلیفون کے ذریعے انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے پولیس گارڈ نہ ہونے کے برابر تھے مگر اب سو فیصد ہے۔

گزشتہ برس پیغمبر اسلام کے کارٹون پر فسادات دیکھنے میں آئے تھے۔

مسلمان پیغمبرِ اسلام کی کسی بھی طرح کی شبیہ بنانے کو توہینِ اسلام سمجھتے ہیں۔

یہ نیا کارٹون اٹھارہ اگست کو نیرکس الیہندہ نام کے اخبار میں شائع کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے سوئڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائنفیلڈ نے اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بائیس مسلم ممالک کےسفارت کاروں سے ملاقات کی تھی۔

انٹرنیٹ پر جاری ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سوئڈن کی حکومت اس سلسلے میں معافی مانگے ورنہ عراق میں القاعدہ ان کی معیشت اور بڑی بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنائے گی جن میں اِرکسن ، وولوو، آئیکیا اور سکینیا شامل ہیں۔

کارٹون بنانے والے کا کہنا ہے کہ یہ ایک فن کا نمونہ ہے اور اس پر ضرورت سے زیادہ ردِ عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اخبار کا موقف
کارٹون کیوں بنوائے اور شائع کیے گئے؟
سلمان رشدیکارٹون تنازعہ
ادیبوں کا آزادیِ اظہار کے حق میں بیان
احتجاجکارٹون تنازعہ، ایک نظر
اسلامی دنیا اور مغرب کے تعلقات میں کتنی نزاکت ہے۔
ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
افغانستان تا صومالیہ
افغانستان اور صومالیہ میں 6 افراد ہلاک
احتجاج کی ویڈیوز
لندن اور بیروت میں احتجاج کی وئڈیوز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد