سویڈن کے کارٹونسٹ کو تحفظ مل گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیغمبر اسلام کا کارٹون بنانے والے سویڈن کے کارٹونسٹ نے کہا ہے کہ پولیس نے حفاظت کے پیشِ نظر انہیں کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ لارس ولکس نے کہا ہے کہ اختتامِ ہفتہ کے موقع پر جب وہ جرمنی سے واپس سویڈن آئے تو پولیس نے انہیں صرف چند ایک اشیاء اٹھانے کی مہلت ہی دی اور گھر سے کہیں لے گئی۔ ’عراق میں القاعدہ‘ کےمبینہ سربراہ نے لارس ولکس کے قتل کے لیے انعام کی رقم مقرر کر رکھی ہے۔ انٹرنیٹ پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں ابو عمر البغدادی نام کے اس شخص کہا کہ ’اگر لارس ولکس کو قتل کیا گیا توایک لاکھ ڈالر کی رقم انعام میں دی جائے گی’ ساتھ ہی اخبار کے مدیر کو قتل کرنے کے لیے انعام کی رقم میں پچاس فیصد کا اضافہ کر دیا جائےگا‘۔ لارس ولکس نے کہا ہے کہ سویڈن کی پولیس سمجھتی ہے کہ ان کی جان کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو ٹیلیفون کے ذریعے انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے پولیس گارڈ نہ ہونے کے برابر تھے مگر اب سو فیصد ہے۔ گزشتہ برس پیغمبر اسلام کے کارٹون پر فسادات دیکھنے میں آئے تھے۔ مسلمان پیغمبرِ اسلام کی کسی بھی طرح کی شبیہ بنانے کو توہینِ اسلام سمجھتے ہیں۔ یہ نیا کارٹون اٹھارہ اگست کو نیرکس الیہندہ نام کے اخبار میں شائع کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے سوئڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائنفیلڈ نے اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بائیس مسلم ممالک کےسفارت کاروں سے ملاقات کی تھی۔ انٹرنیٹ پر جاری ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سوئڈن کی حکومت اس سلسلے میں معافی مانگے ورنہ عراق میں القاعدہ ان کی معیشت اور بڑی بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنائے گی جن میں اِرکسن ، وولوو، آئیکیا اور سکینیا شامل ہیں۔ کارٹون بنانے والے کا کہنا ہے کہ یہ ایک فن کا نمونہ ہے اور اس پر ضرورت سے زیادہ ردِ عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں پیغمبر اسلام کے نئے کارٹون پر تنازعہ15 September, 2007 | آس پاس توہین آمیز کارٹون پر معذرت31 January, 2006 | آس پاس کشمیر: کارٹونوں کے خلاف احتجاج07 February, 2006 | آس پاس آ گئے خواب کی تعبیر بتانے والے18 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||