پیغمبر اسلام کے نئے کارٹون پر تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’عراق میں القاعدہ‘ کےمبینہ سربراہ نے پیغمبر اسلام کے کارٹون بنانے والے سوئڈن کےصحافی کے قتل کے لیے انعام کی رقم مقرر کی ہے۔ انٹرنیٹ پر جاری ہونے والے اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’اگر لارس ولکس کو قتل کیا گیا توایک لاکھ ڈالر کی رقم انعام میں دی جائے گی’ ساتھ ہی اخبار کے مدیر کو قتل کرنے کے لیے انعام کی رقم میں پچاس فیصد کا اضافہ کر دیا جائےگا‘۔ ابو عمر البغدادی نام کے اس شخص نے رمضان کے مہینے میں نئے حملوں کی دھمکی دی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ عراق میں یزدی فرقے کے لوگوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہےگا۔ گزشتہ برس پیغمبر اسلام کے کارٹون پر فسادات دیکھنے میں آئے تھے۔ مسلمان پیغمبرِ اسلام کی کسی بھی طرح کی شبیہ بنانے کو توہینِ اسلام سمجھتے ہیں۔ یہ نیا کارٹون اٹھارہ اگست کو نیرکس الیہندہ نام کے اخبار میں شائع کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے سوئڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائنفیلڈ نے اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بائیس مسلم ممالک کےسفارت کاروں سے ملاقات کی تھی۔ انٹرنیٹ پر جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سوئڈن کی حکومت اس سلسلے میں معافی مانگے ورنہ عراق میں القاعدہ ان کی معیشت اور بڑی بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنائے گی جن میں اِرکسن ، وولوو، آئیکیا اور سکینیا شامل ہیں۔ کارٹون بنانے والے کا کہنا ہے کہ یہ ایک فن کا نمونہ ہے اور اس پر ضرورت سے زیادہ ردِ عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں توہین آمیز کارٹون پر معذرت31 January, 2006 | آس پاس کشمیر: کارٹونوں کے خلاف احتجاج07 February, 2006 | آس پاس آ گئے خواب کی تعبیر بتانے والے18 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||