BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی تجویز
امریکی صدر جارج بش (فائل فوٹو)
امریکی صدر بش محمود عباس حکومت کو مستحکم بنانا چاہتے ہیں
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کی از سر نو بحالی پر بات کے لیے بین الاقوامی اجلاس بلایا جائے۔

ان کا تجویز کردہ یہ اجلاس اس سال کے اختتام پر ہوگا جس میں امریکہ، اسرائیل اور اس کی کچھ پڑوسی ریاستیں شامل ہوں گی۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اس بات چیت کی سربراہی کریں گی۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے فلسطین کے صدر محمود عباس کی حکومت کے لیے 95 ملین پونڈ یا بیس کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کا بھی اعلان کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں فلسطین کی شدت پسند تنظیم حماس نے محمود عباس کی الفتح پارٹی سے غزہ کا کنٹرول چھین لیا تھا۔

حماس نے امریکی صدر جارج بش کی تجویز کردہ کانفرنس کی مذمت کی ہے۔

امریکی صدر جارج بش کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کا چار رکنی ثالثی گروپ جس میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ شامل ہیں، امن کے فروغ کے لیے صدر محمود عباس کی حکومت کو مستحکم بنانے میں کردار ادا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا:’ ہم ان (محمود عباس) کی مدد کرسکتے ہیں تاکہ وہ دنیا، مشرق وسطیٰ اور اسرائیل پر یہ ثابت کر سکیں کہ فلسطینی ریاست ان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ان کی حلیف ہوگی۔ ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ فلسطینیوں کے سامنے یہ واضح کرسکیں کہ تشدد کو مسترد کرنا ہی تحفظ اور ایک بہتر زندگی کا یقینی راستہ ہے‘۔

صدر محمود عباس پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں

امریکی صدر نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ محمود عباس کی سربراہی میں قائم فلسطینی حکومت کو ٹیکس ریونیو دینے کا عمل جاری رکھے۔ انہوں نے امدادی رقم بڑھانے پر غور کے لیے امداد دینے والے ممالک جن میں عرب ریاستیں جیسے سعودی عرب، اردن اور مصر شامل ہیں، کا اجلاس بلانے کو بھی کہا ہے۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے واضح چناؤ کا لمحہ آ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی محمود عباس کے نظریے پر چلتے ہوئے اپنی الگ ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکیں گے یا پھر وہ حماس کے تشدد پر مبنی نظریے کو منتخب کرکے ممکنہ آزادی کے اس خواب کو ’کچل‘ دیں گے۔

اس سے قبل فلسطین کے صدر محمود عباس پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اعتماد سازی سے متعلق اقدامات پر بات کرنے کو تیار ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی متنازعہ معاملات پر کوئی بات نہیں ہو گی۔

پیر کو اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ محمود عباس کی حکومت کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کو بڑھانے کے لیے 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردے گا۔

الفتح جنگجوحماس نہیں عباس
فلسطین پر امریکہ اسرائیل مذاکرات
’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
اسرائیلی فصیلفلسطینی اراضی
اراضی پر قبضے کا قانون اسرائیل کے زیر غور
فلسطینبندوق کے سائے میں
غزہ میں مزاکرات زبان سے نہیں گولیوں سے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد